پولیس، رینجر اور ایف سی کو 20 مارچ سے 2 اپریل تک اسلام آباد میں خصوصی اختیارات دیئے جا رہے ہیں، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد

پولیس، رینجر اور ایف سی کو 20 مارچ سے 2 اپریل تک اسلام آباد میں خصوصی اختیارات دیئے جا رہے ہیں، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس ، رینجر اور ایف سی کو 20 مارچ سے 2 اپریل تک خصوصی اختیارات دیے جارہے ہیں، اپوزیشن اگر قانون کو نہیں چھیڑے گی تو انہیں کچھ نہیں کہیں گے ،لانگ مارچ کے انعقاد کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو مکمل سہولت اور تحفظ فراہم کیا جائے گا تاہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی،

اپوزیشن نے 23 مارچ کو اسلام آباد نہ آنے کا فیصلہ کرکے عقل مندی کامظاہرہ کیا، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور وہ آنے والے دنوں میں مزید تقویت حاصل کریں گے، پورا ملک وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے، امید ہے ق لیگ اور اتحادی عمرا ن خان کا ساتھ دیں گے ۔

بدھ کو یہاں اقوام متحدہ کے زیراہتمام انسداد انسانی سمگلنگ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے بعد میڈیاسےگفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہاکہ وفاقی دارالحکومت میں پولیس ، رینجر اور ایف سی کسی بھی ناخوشگوار صورحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایف سی اور رینجرز کے 1000 اہلکاروں کوسکیورٹی ڈیوٹی کے لئے اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، اگر ضرور ت پری تو امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے مزید اہلکاربھی تعینات کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 25 مارچ اور 27 مارچ کے دونوں جلسوں کو مکمل سکیورٹی اور تحفظ فراہم کرے گی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، یہاں پر او آئی سی کی تاریخی کانفرنس ہونے جارہی ہے،اس سلسلہ میں سکیورٹی انتظامات کے لئے 20مارچ سے رینجرز،پولیس اور ایف سی کو خصوصی اختیارات دے رہا ہوں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ فیصلہ سپیکر کریں گے تمام لوگوں کو پروٹیکشن دی جائے ،

ہمارا کسی سے ذاتی کوئی مسئلہ نہیں۔پارلیمنٹ لاجز میں فیملیز رہتی ہیں لیکن وہاں آپ اپنی ملیشیا لے آئے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، اب جیتے یا ہارے فائدہ عمران خان کو ہی ہوگا۔ اپوزیشن 25 مارچ کو اسلام آباد آرہی ہے،

اپوزیشن کو عدم اعتماد کا حق حاصل ہے لیکن 23 مارچ کو جے 10سی فلائی کرنے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اہم ایونٹ کے بعد ہم اپوزیشن والوں کو مکمل تحفظ دیں گے لیکن کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔کسی نے قانون ہاتھ لیا تواسے کسی صورت نہیں چھوڑا جا سکتا، اپوزیشن اگر قانون کو نہیں چھیڑے گی تو انہیں کچھ نہیں کہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر حیرت ہے لاٹھیوں کی بات کررہے ہیں، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نکل جائیں گی آپ دھر لیے جائیں گے، انہیں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا پتہ ہے، کیا مولانا ملک کو انارکی کی طرف لے کر جارہے ہیں،اگر ملک میں خانہ جنگی ہوئی تو اس کے ذمہ دار مولانا فضل الرحمان ہوں گے۔

شیخ رشید نے کہاکہ سپیکر سے پوچھوں گا کہ کس دن ووٹنگ ہورہی ہے، سپیکر 63 اے کےتحت کسی کا بھی ووٹ منسوخ کر سکتےہیں، کچھ بھی ہو وزیر اعظم عمران خان جیتے یا ہارے فائدہ عمران خان کا ہی ہوگا، میں وزیراعظم کو فاتح دیکھ رہا ہوں، 25 مارچ کے بعد عمران خان کی مقبولیت اور بڑھ جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا اسد عمر اور پرویز خٹک ق لیگ سمیت تمام اتحادیوں سےبات چیت کررہے ہیں، امید ہے ق لیگ اور اتحادی عمرا ن خان کا ساتھ دیں گے، 25 مارچ کے بعد اتحادیوں اور دیگر کا پتہ چل جائے گا کس کے ساتھ ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ او آئی سی کی تاریخی کانفرنس ہونے جارہی ہے،اپوزیشن نے 23 مارچ کو اسلام آباد نہ آنے کا فیصلہ کرکے عقل مندی کامظاہرہ کیا، اپوزیشن نے جلسہ کرنا ہے تو ڈی سی اسلام آباد سے ملاقات کرے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی،

لوگوں کوتحفظ دیناوزارت داخلہ کاکام ہے،چاہےکچھ بھی کرناپڑے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاکستان کوانٹرنیشنل تھریٹس ہیں، یہ دیکھناصرف حکومت کا نہیں اپوزیشن کابھی کام ہے، ایسانہ ہو کہ عدم اعتماد عدم ا ستحکام کا باعث بن جائے۔

یہ خبر پڑھیئے

بلوچستان میں سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

بلوچستان  کے پانچ اضلاع کی 141 یونین کونسلوں میں 7روزہ  انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons