چین کے دو کامیاب اجلاسوں کے دوران عوام پر مبنی پالیسیوں کی بھرپور عکاسی ہوئی ہے، یاسر مسعود

چین کے حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں جی ڈی پی کیلئے 5.5 فیصد کاہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مغربی تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ہدف گزشتہ 4 دہائیوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے، کیونکہ چین میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جی ڈی پی کی شرح نمو 8 فیصد کے قریب رہی۔ لیکن ہم یہ بات جانتے ہیں کہ دنیا کو اس وقت بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں عالمی سیاسی صورتحال  اور چند ممالک کے اندرونی معاملات بھی شامل ہیں، جبکہ کوویڈ-۱۹ کی وجہ سے پوری دنیا میں اشیاء کی ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان تمام مسائل کے باوجود چین کی جانب سے جی ڈی پی کی شرح نمو کیلئے 5.5 فیصد کا ہدف ایک بہتر اشارہ ہے۔

عالمی سطح پر چین میں اعلیٰ سطح کے دونوں اہم  سیشنز کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے، کیونکہ عالمی اقتصادی ترقی میں چینی معیشت کا کردار انتہائی اہم اور مثبت رہا ہے اور چین  کی معاشی ترقی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔  اس کے علاوہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایک پٹی ایک شاہراہ کے اقدام سے پاکستان سمیت بہت سارے ممالک منسلک ہوچکے ہیں، اسلئے چین کی جانب سے اس منصوبے کیلئے کھلے پن، ترقی، بنیادی ڈھانچے یا بجٹ پر بات کی جائے گی تو یہ امر پاکستان کیلئے بھی خوش آئند ہوگا۔  اسکے علاوہ چین کی جمہوریت کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ 1978ء میں قومی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے چیئرمین تَنگ شیاؤ پھنگ کی جانب سے چین میں اصلاحات نافذ کرنے کے بعد وہاں ترقی کے سفر کا آغاز ہوا ۔اس دوران انہوں نے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم اور جمہوریت کی بنیادوں کی بھی مضبوط کیا۔ اس کے بعد سال 2000ء میں چین کی جانب سے بین الاقوامی پالیسی کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد چینی صدر شی چن پھنگ نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک پٹی ایک شاہراہ جیسے منصوبے کا آغاز کیا اور ایک نمایاں عالمی راہنماء کے طور پر ابھرے۔

جمہوریت میں ضروری ہے کہ چائنہ کی ڈیموکریسی عوامی مفادات پر مبنی ہے، چین نے وہ مثال قائم کی جو پوری دنیا میں نہیں ملتی کہ غربت کو 2020ء میں مکمل طور پر ختم کرلیا گیا۔ اس مقصد کیلئے 2030ء کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جسے 10 سال پہلے حاصل کرلیا گیا۔ حالیہ پنج سالہ منصوبے میں بھی 1 کروڑ 10 لاکھ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے، سماجی سطح پر معاشی ترقی کیلئے توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی طرز کی جمہوریت عوامی مفادات اور فلاح پر مبنی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

چھ اکتوبر: رات 9بجے کا خبرنامہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons