دیہی علاقوں کے جامع احیاء سے عالمی معیشت کی مستحکم بحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے

دیہی علاقوں کے جامع احیاء سے عالمی معیشت کی مستحکم بحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے

“دیہی بحالی کی حکمت عملی کے نفاذ میں، اہم زرعی مصنوعات خصوصاً خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا بنیادی کام ہونا چاہیے”۔

ان خیالات کا اظہار ، چینی صدر شی چن پھنگ نے سی پی پی سی سی کی 13ویں قومی کمیٹی کے پانچویں اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین کے ساتھ  تبادلہ خیال کے موقع پر کیا۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی کے حامل ملک کی حیثیت سے  ، چین کا جامع دیہی احیاء کو فروغ دینا اور غذائی تحفظ  کو یقینی بنانا ، عالمی معیشت کی مستحکم بحالی کی  ایک مضبوط بنیاد کے لیے مددفراہم کرے  گا۔

اعداد و شمار کے مطابق چین میں مسلسل سات سالوں سے اناج کی کل پیداوار ، چھ اعشاریہ پانچ کھرب کلوگرام  سے اوپر ہے۔ حکومتی ورک رپورٹ میں کہا  کیا گیا ہے کہ اس سال بھی چین کی اناج کی پیداوار چھ اعشاریہ پانچ کھرب کلوگرام  سے زیادہ ہونی چاہیے۔

چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی کے رکن اور بیجنگ اکیڈمی آف ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری کے صدر لی چھنگ گوئی نے کہا کہ چھ اعشاریہ پانچ کھرب کلوگرام غذائی تحفظ کے لیے ایک سرخ لکیر ہے اور یہ ہدف ملک کی خوارک کی پیداوار ، ٹیکنالوجی اور دیگر عوامل کی بنیاد پر طے کیا گیا  ہے۔ چین کے وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے 5 مارچ کو  حکومتی ورک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا  کہ رواں سال  ہمیں بھرپور طریقے سے زرعی پیداوار  کو یقینی بنانا چاہیے اور دیہی علاقوں کے مجموعی احیاء کو فروغ دینا چاہیے۔

جامع دیہی احیاء کی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے   زرعی پیداوار کو یقینی بنانا اور کسانوں  کی آمدنی بڑھانے کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔”بمپر فصل”  کی کلید ، قابل کاشت زمین کا تحفظ اور ٹیکنالوجی کا فروغ ہے ۔  قابل کاشت زمین کے رقبے کو  بارہ لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ کی سطح پر برقرار رکھنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، نئے ترقیاتی تصور کے تحت زمین کے معیار پر بھی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، جیسے کہ اعلیٰ معیاری قابل کاشت اراضی کی تشکیل ، زرخیززمین کے تحفظ  اور سیم اور تھور زدہ   زمین کا بھرپور استعمال شامل ہے۔ دوسری طرف، زرعی شعبے میں سائنس و ٹیکنالوجی کی تحقیقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، جن میں بیج کی صنعت اور زرعی مشینری کے معیار کو بہتر بنانا شامل ہے۔

کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے اناج کی قیمت بڑھانے، زرعی مواد کی سپلائی اور قیمت کو مستحکم کرنے اور اناج اگانے والے کسانوں کے لیے سبسڈی فراہم کرنے سمیت اقدامات اختیار کیے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی کسانوں کے لیے روز گار کے مزید ذرائع  بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مقبولیت کے باعث، ڈیجیٹل معیشت نے دیہی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈیجیٹل دیہات کی تعمیر اور دیہی ای کامرس کی ترقی سے زرعی مصنوعات کی تجارت کو مزید فروغ ملے گا، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ان کی زندگیوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ حکومتی  ورک رپورٹ میں  نسبتاً پسماندہ دیہی علاقوں کے لیے، قومی امداد ی اقدامات کو مضبوط بنانے، مشرق اور مغرب کے درمیان تعاون کو گہرا کرنے اور دیہی صنعتوں کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے غربت زدہ علاقوں میں خود انحصاری کی صلاحیت کو بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دیہات میں لوگوں کے لیے  تعلیم، طبی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کو یقینی  بنانا بھی دیہی احیاء کے کام کا محور ہیں۔ ورک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں لازمی تعلیم اور اساتذہ کی تربیت  کو مضبوط بنایا جائے گا اور  اعلی تعلیمی اداروں میں  داخلوں کے وقت  دیہی علاقوں کو مزید ترجیح  دی جائے گی۔ بنیادی طبی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے باہمی امداد کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

چین کی قابل کاشت زمین دنیا کا  9 فیصد ہے جب کہ اس کی آبادی دنیا  کا تقریباً 18 فیصد ہے۔ اتنی کم قابل کاشت زمین سے اتنے لوگوں کو کھانا کھلانا آسان نہیں ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے، چین  بنیادی تنصیبات کی تعمیر، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور دیہی باشندوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے جیسے اقدامات کے ذریعے دیہی احیاء کو فروغ دینے کی کوشش کرتا رہا ہے جس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ نہ صرف چین کی معاشی و معاشرتی  ترقی کے لیے ایک بنیادی  شرط ہے بلکہ عالمی معیشت کی مستحکم بحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لیے بھی مددگار ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons