معروف گلوکار پٹھانے خان کی آج 22ویں برسی منائی جارہی ہے

معروف گلوکار پٹھانے خان کی آج 22ویں برسی منائی جارہی ہے، پٹھانے خان 2000 میں 9 مارچ کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے، لیکن اپنی آواز کی وجہ سے آج بھی چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ لوک گلوکار پٹھانے خان کا اصل نام غلام محمد تھا۔ پٹھانے خان سنہ 1926ء کو تمبو والی بستی کوٹ ادو میں پیدا ہوئے تھے- انہیں غزل، کافی، لوک گیتوں پر بے حد کمال حاصل تھا، پٹھانے خان نے کئی دہائیوں تک اپنی سریلی آواز کا جادو جگایا اور خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ، مہر علی شاہ سمیت کئی شاعروں کے عارفانہ کلام کو گایا، جس پر حکومت نے اس نامور گلوکار کو 1979ء میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا۔

پٹھانے خان نے 79 مختلف ایوارڈز حاصل کیے۔ پٹھانے خان کی آواز میں درد کے ساتھ بے پناہ کشش بھی تھی اور اسی لئے ان کا عارفانہ کلام سنتے ہی سامعین پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔ ان کے مشہور صوفیانہ کلام میں میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں، الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہُو ان کی دنیا بھر میں شہرت کا باعث بنا۔

اس کے علاوہ جندڑی لئی تاں یار سجن، کدی موڑ مہاراں تے ول آوطناں، آ مل آج کل سوہنا سائیں، وجے اللہ والی تار، کیا حال سناواں، میرا رنجھنا میں کوئی ہور، اور دیگر ان کے مشہور گیتوں میں شامل ہیں۔ پٹھانے خان 74 سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد سنہ 2000ء میں انتقال کرگئے۔ ان کے فن کے سحر میں مبتلا مداحوں نے کوٹ ادو کے تاریخی بازار کو ان کے نام سے منسوب کر دیا اور اب وہ پٹھانے خان بازار کہلاتا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons