چینی ڈیمز سے متعلق امریکی اعدادوشمار میں سنگین غلطیاں سامنے آئی ہیں

چین  کی مشہور یونیورسٹی Tsinghua کے ہائیڈرولوجیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی مالی اعانت سے  چلنے والے پروگرام میکونگ ڈیم مانیٹرنگ کے تحت چین کے آبی ذخائر سے متعلق  جاری کردہ رپورٹس میں  سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہاگیاہے کہ ان اعدادوشمار کے تناظر میں چین پر بڑی آسانی سے یہ الزام عائد کیاجاسکتاہے کہ چین اپنے ڈیموں میں جو پانی ذخیرہ کررہاہے اُس سے دیگر ممالک کو نقصان پہنچ رہاہے۔ مضمون میں کہاگیا ہے کہ چینی تحقیقاتی ٹیم  نے اس امر کی نشاندہی  کی ہے کہ ریموٹ مصنوعی سیارے سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2020 کے دوران چین کے ڈیم Xiaowanمیں پانی کی سطح کے اتار وچڑھاو میں 14.84میٹر تک کی غلطی سامنے آئی ہے جو تقریباً 2.4 ارب کیوبک میٹر پانی کے مساوی تصور کی جاتی ہے۔ چینی آبی ماہرین کی نشاندہی پر میکونگ ڈیم مانیٹر نگ نے اس امر کوتسلیم کیا کہ Xiaowan ڈیم میں پانی کے بہاو سے متعلق جاری کردہ اعدادوشمار  میں چند سنگین ٹائپنگ غلطیاں ہوئی جن کو دوبارہ جانچ پڑتال کرنے کے بعد درست کر دیا جائے گا۔ چینی تحقیقاتی ٹیم  نے میکونگ ڈیم مانیٹرنگ کی جانب سے تاحال درست اعداد وشمار جاری نہیں کئے گئے جبکہ  پانی کی سطح میں ابھی بھی 8میٹر تک کی غلطی موجود ہے، جو نچلی سطح پر واقع ممالک کیلئے  تشویشناک ہوسکتی ہیں۔ انہوں  نے کہا میکونگ ڈیم مانیٹر کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار سے یہ انداز لگایا جاسکتاہے کہ چین کے ڈیمز نچلی سطح والے ممالک کیلئے خشک سالی کا باعث بن رہے ہیں۔

میکونگ ڈیم مانیٹر کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار میں مسلسل غلطیوں کی نشاندہی:

میکونگ ڈیم مانیٹرنگ پروگرام امریکی حمایت یافتہ ادارے سٹیم سن سینٹر کے جنوب مشرقی ایشیا کی حمایت حاصل ہے جس  نے 15دسمبر 2020 کے دوران اپنے کام کا آغاز کیا اور اُس وقت سے اس پروگرام کے تحت چین کے آبی ذخائر کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کیاجارہاہے۔ میکونگ ڈیم مانیٹرنگ پروگرام کے تحت چین کے 13ڈیمز کی مکمل نگرانی کی گئی۔ آبی ماہرین کا کہنا ہےکہ ایم ڈی ایم کی جانب سے چین کے ڈیمز میں پانی کے اتار چڑھاو کے حوالے سے کی گئی غلطیاں جان بوجھ کرکی گئی جن کے سیاسی مقاصد تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میکونگ ڈیم مانیٹرنگ کی جانب سے اعدادوشمار  کے حوالے سے پہلی بار تضاد سامنے نہیں آیا بلکہ اس سے پہلے بھی ایم ڈی ایم کا منافقانہ رویہ سامنے آچکا ہے۔ ایم ڈی ایم کی فیس بک پر جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ چین کے Jinghong ڈیم میں 144کیوبک کلومیٹر پانی کے بہاو پر پابندی عائد تھی تاہم حقیقت یہ ہے کہ 144 کیوبک کلومیٹر Jinghong ڈیم کی کل ذخیرہ کرنے کی گنجائش سے بھی کہیں زیادہ ہے، مزید یہ کہ یہ بیسن کے تمام 45 ڈیموں سے ہفتہ وار اخراج کئے جانے والے کل پانی سے بھی ایک ہزار گنا زائد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میکونگ ڈیم مانیٹرنگ 2019 تا 2020 تک ایک سازش کے تحت چین کے ڈیمز میں پانی کے اتار و چرھاو  کے بارے میں غلط اعدوشمار کاپرچار کرتا رہا ہے۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ ایم ڈی ایم کے نتائج متضاد اور ناقابل قبول ہیں۔

مزید وجوہات  

پیکنگ یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ساتھ وابستہ میکونگ ریجن کے ماہر Zhai Kun نے  کہا ہے کہ یہ معمول کی بات ہے کہ بلند اور نچلی سطح  والے ممالک کے درمیان سرحد پار آبی وسائل کی ترقی اور استعمال میں مختلف اور حتیٰ کہ متصادم مفادات بھی ہو سکتے ہیں تاہم کچھ مغربی میڈیا رپورٹس اور اسکالرز کے برعکس دریائے Lancang اور Mekong کے ساتھ والے ممالک کے درمیان پانی کا کوئی سنگین تنازع نہیں ہے۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ ایم ڈی ایم کو میکونگ یو ایس شراکت داری کی حمایت حاصل ہے۔

چین کی مشہور Guangxi یونیورسٹی برائے نیشنلٹیز میں کالج آف آسیان اسٹڈیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر Ge Hongliang نے کہا کہ امریکہ نے انڈو پیسیفک امور میں اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں جو اس کے قومی مفادات کے لیے تزویراتی طور پر اہم ہیں، جیسے کثیر الجہتی میکانزم کےذریعے۔ کواڈ، میکونگ-یو ایس اوراےپی ای ایس شراکت داری۔ایم ڈی ایم  نے چینی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی فیس بک پوسٹ پر Lancang آبی ذخائر کی سطح کے بارے میں مزید معلومات شیئرکریں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ چین نومبر 2020 سے ہی اپنے آبی ذخائر کے روزانہ مجموعی طور پر پانی کے بہاو کو شائع کرتا ہے اور متعلقہ ممالک کو سالانہ پانی کے اخراج اور متعلقہ ہائیڈرولوجیکل معلومات کی رپورٹ کرنے پر اُن پر زور دیتاہے۔

مزید برآں، چین اور دریائے میکونگ کے نچلے کنارے کے ممالک نے بڑھتے ہوئے قدرتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بہترین حل تلاش کرنے کے لیے مشترکہ طور پر ہائیڈروولوجیکل اور موسمیاتی تبدیلیوں پر ایک مطالعہ بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر ستمبر 2021 میں میکونگ ریور کمیشن، کمبوڈیا، لاؤس، تھائی لینڈ اور ویتنام پر مشتمل ایک بین الحکومتی ادارے نے چین اور میانمار کی قیادت میں لنکانگ میکونگ کوآپریشن واٹر سینٹر کے ساتھ مل کر پورے دریا کے طاس پر محیط تین سالہ مطالعہ کا اعلان کیا۔

یہ خبر پڑھیئے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons