روسی و یوکرینی وفود کے درمیان مذاکرات ختم، دونوں فریقین مذاکرات جاری رکھنے پر متفق

مقامی وقت کے مطابق اٹھائیس فروری کو روسی اور یوکرینی وفد نے بیلاروس کی ریاست ہومیل میں مذاکرات کیے۔

دونوں فریقین کے درمیان بات چیت تقریباً 5 گھنٹے تک جاری رہی اور تمام ایجنڈوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے ملاقات کے بعد کہا کہ انہیں مستقبل میں اتفاق رائے کے اہم نکات مل گئے ہیں۔ مذاکرات کا اگلا دور مستقبل قریب میں منعقد ہوگا اوریہ مذاکرات بیلاروس اور پولینڈ کےدرمیان سرحدی علاقے میں ہوں گے۔ روسی مذاکراتی وفد کے رکن اور قومی ڈوما کی بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے چیئرمین لیونیڈ سلوٹسکی نے یہ بھی کہا کہ خود اس اجلاس کا انعقاد ایک بڑی کامیابی ہے اور ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے تحمل سے ایک دوسرے کا موْقف سنا۔

یوکرین کے صدر کے دفتر کے مشیر پوڈولجاک نے کہا کہ یوکرین اور روس کے وفود نے آج جن مذاکرات کا پہلا دور منعقد کیا، اس کا بنیادی مقصد یوکرین میں جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے کے مسئلے پر بات چیت کرنا تھا۔ دونوں فریقوں نے متعدد ترجیحی موضوعات کی نشاندہی کی اور اس سلسلے میں کچھ حل واضع کیے، ان منصوبوں پر حتمی طور پر دستخط کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے، دونوں فریقوں نے مشاورت کے لیے اپنے اپنے دارالحکومتوں میں واپس جانے کا فیصلہ کیا اور مستقبل قریب میں اگلے مذاکرات  منعقد کرنے پر اتفاق کیا  تاکہ ان منصوبوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons