عالمی برادری کو عالمی چیلنجز کا جواب دینے کے لئے متحد ہونا چاہیئے، چینی صدر

اکتیس اکتوبر کی شام کو چینی صدر شی چن پھنگ نے بیجنگ سے ویڈیو لنک کے ذریعے 16ویں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔

شی چن پھنگ نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے مسائل اس وقت نمایاں عالمی چیلنجز ہیں جن کا تعلق بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفادات اور کرہ ارض کے مستقبل سے ہے۔ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی برادری کی خواہش اور آمادگی بتدریج بڑھ رہی ہے، اس حوالے سے سب سے اہم بات عملی اقدامات کرنا ہے۔

شی چن پھنگ نے نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں کثرت سے شدید قدرتی آفات کا سامنا کیا گیا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی فوری ضرورت بڑھی ہے۔ بین الاقوامی توانائی کی منڈی میں حالیہ اتار چڑھاؤ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی کو مربوط کرنا چاہیئے، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ردعمل اور لوگوں کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے تحفظ کو مدنظر رکھنا چاہیئے۔ بڑی معیشتوں کو اس سلسلے میں تعاون کو مضبوط بنانا چاہیئے۔

شی چن پھنگ نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن اور پیرس معاہدے کو مکمل اور مؤثر طریقے سے نافذ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اقوام متحدہ کی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہیئے، مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے اصول پر کاربند رہنا چاہیئے، بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر موثر کارروائی کرنی چاہیئے اور خود کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہیئے۔

شی چن پھنگ نے نشاندہی کی کہ حتمی تجزیے میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اور توانائی کی منتقلی کا ادراک تکنیکی ترقی پر منحصر ہے۔ G20 ارکان کو جدید ٹیکنالوجیز کو مقبول بنانے اور ان کے استعمال کو فروغ دینے میں پیش پیش رہنا چاہیئے۔ ترقی یافتہ ممالک کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے وعدوں کو خلوص دل سے پورا کریں اور ترقی پذیر ممالک کو مالی مدد فراہم کریں۔

یہ خبر پڑھیئے

بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں کشمیری صحافی شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں کشمیری صحافی شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا او …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons