”زمینی سرحدوں سے متعلق قانون“ کی تشکیل اور نفاذ، چین کے سرحدی امور کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، وزارت خارجہ

”زمینی سرحدوں سے متعلق قانون“ کی تشکیل اور نفاذ، چین کے سرحدی امور کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، وزارت خارجہ

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے 28 اکتوبر کو منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین کی جانب سے زمینی سرحدی قانون کی تشکیل اور نفاذ چین کی قانونی حکمرانی کا ایک اہم اقدام ہے اور یہ ملکی قانون سازی کی عمومی سرگرمی بھی ہے جو نا صرف چین کے سرحدی امور کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی مشق کے مطابق بھی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 23 اکتوبر کو چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی نے مذکورہ قانون پر نظر ثانی کے بعد اسے منظور کیا۔ اسی دن صدر شی چن پھنگ نے اس قانون کے نفاذ پر صدارتی حکم نمبر 99 پر دستخط کیے۔ یہ قانون یکم جنوری 2022 سے نافذ العمل ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں وانگ وین بین نے کہا کہ اس قانون میں چین کی جانب سے زمینی سرحدی امور کے معاہدوں کی پاسداری، ہمسایہ ممالک کے ساتھ بین الاقوامی تعاون اور زمینی سرحدی امور سے نمٹنے کے لئے برابری اور باہمی مفادات کے اصول سے متعلق واضح دفعات موجود ہیں اور یہ چین کے دستخط شدہ سرحدی معاہدوں پر عمل درآمد کو متاثر نہیں کرے گا۔

چین کے موجودہ سرحدی معاہدوں سے چین کے سرحدی انتظام اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کے موجودہ طریقوں کو تبدیل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس سے متعلقہ سرحدی مسائل پر چین کے موجودہ مؤقف اور تجاویز میں کوئی تبدیلی آئے گی۔”

یہ خبر پڑھیئے

ایرانی پارلیمنٹ نے ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا بل منظور کر لیا

27 نومبر کو ایرانی پارلیمنٹ نے ایران کے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے کا …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons