شاہراہ ریشم پر واقع چمکتے موتی جیسے قدیم شہر کاشغر کا سیاحتی دورہ

 کاشغر کا قدیم شہر ویغور طرز زندگی، ثقافت، فن اور طرز تعمیر کا گھر ہے۔

شاہراہ ریشم پر واقع شمال مغربی چین کے ویغوز خودمختار علاقے سنکیانگ کا چمکتے ہوئے موتی جیسا یہ شہر دیکھنے کے لائق ہے۔ تاریخی شہر کاشغر کی سیر کیلئے آنے والے بیشتر سیاحوں کا کہنا ہے کہ وقت اجازت دے تو وہ اس حیران کن شہر کو دیکھنے کیلئے کئی دن اور راتیں یہاں بسر کریں۔

شہر کے وسط میں واقع کاشغر کا قدیم حصہ دنیا میں مٹی کی باقی رہ  جانے والی عمارتوں کا سب سے بڑا شہر ہے جو اپنی پرانی تاریخ،ثقافتی ورثے اور مختلف نسلی و ثقافتی رسم و رواج کی وجہ سے ہر دور میں دیکھنے کے لائق رہا ہے۔”کاشغر کی روح” کہلائے جانے والی اس قدیم آبادی کی تاریخ 2100 سال پر محیط ہے، جو سنکیانگ کا پہلا تاریخی و ثقافتی شہر ہے۔

یہاں روزانہ شہر کا مرکزی دروازہ کھولنے کیلئے ایک تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ویغور نسل کے لوگ روایتی رقص کے ذریعے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ شہر کےانتہائی دلکش مرکزی علاقے کا رقبہ 1.57 مربع کلومیٹر ہے، جہاں تقریباً 12 ہزار گھر اور 40 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔ یہاں کی آڑھی ترچھی گلیوں میں مٹی،اینٹوں اور لکڑی سے بنائے گئے ہیں، جن میں سے بہت سے روایتی گھروں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ اس پرکشش جگہ کی تعمیر کیلئے بہت زیادہ رقم خرچ نہیں کی گئی، لیکن یہ ویغوز قوم کا آبائی شہر ہے جہاں وہ آج تک رہائش پذیر ہیں۔ قدیم شہر اتنا خوبصورت ہے کہ آپ اسے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتے۔

دن کے اوقات میں آپ کاشغر کے کاریگروں کو اپنی نسبتاً چھوٹی دوکانوں میں ہاتھ سے بنی مختلف اشیاء تیار کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، جبکہ دستکاریاں تیار کرنے کیلئے یہاں بہت سے  کارخانے بھی موجود ہیں۔ شہر کے اکثر کاریگروں کو دستکاری ورثے میں ملی ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔

کاشغر کے قدیم علاقے میں موجود انتہائی دلکش اور مخصوص فن تعمیر کا شاہکار آئی ڈی مسجد کا شمار چین کی سب سے بڑی مساجد میں ہوتا ہے، جو شہر کے وسط میں واقع ہے۔ مسجد میں ہاتھ سے بنی”قومی اتحاد” کہلائے جانے والی یادگار بھی نصب کی گئی ہے۔ مسجد میں فرائض سرانجام دینے والے ملازمین کے مطابق چین کے 56 نسلی گروہوں کی ترجمانی کرنے والی اس یادگار میں 56 پھول بنائے گئے ہیں، جن کی باہم پیوست شاخیں قومی اتحاد کی علامت ہیں۔

آئی ڈی مسجد کے باہر قدیم شہر کا مغربی حصہ واقع ہے جہاں ایک صدی پرانا چائے خانہ بھی موجود ہے، جو سیاحوں کیلئے خاص کشش کا حامل ہے۔ چائے خانے کی بالائی منزل پر آپ چائے کا آرڈر دیکر آرام دہ دوپہر گزارنے کیلئے ویغوز فنکاروں کے گیت سن سکتے ہیں۔ ویغور آپ کو ناشتے میں چائے کے ساتھ نان یعنی ابلی ہوئی مقامی روٹیاں پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ کاشغر کے قدیم شہر کو 20 جولائی 2015ء کو قومی قدرتی مقام کا 5A درجہ دیا گیا اور یہ سنکیانگ میں موجود واحد 5A تاریخی اور ثقافتی مقام ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons