اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست کی بحالی کی پچاسویں سالگرہ

 چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے پچیس اکتوبر کو اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست کی بحالی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور اہم خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ پچاس سال قبل اقوام متحدہ کی چھبیس ویں جنرل اسمبلی میں قرارداد نمبر 2758 کی منظوری دی گئی، اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کے تمام حقوق و مفادات کو بحال کیا گیا۔ عوامی جمہوریہ چین کا نمائندہ اقوام متحدہ میں چین کا واحد قانونی نمائندہ ہے۔ یہ چینی عوام کی فتح اورتمام عالمی ممالک کے عوام کی فتح ہے۔ شی جن پھنگ نے زور دیا کہ اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست کی بحالی دنیا اور اقوام متحدہ کے لیےایک اہم واقعہ ہے۔ یہ دنیا میں امن اور انصاف کے حامی ممالک کی مشترکہ کوششوں کا ثمر ہے جس سے چینی عوام، جو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی ہیں، اقوام متحدہ کے اسٹیج پر واپس آئے۔ یہ واپسی چین اور دنیا کے لیے اہم اور دور رس اہمیت کی حامل ہے۔

چینی صدر شی جن پھنگ نے پر زور الفاظ میں کہا کہ عوامی جمہوریہ چین کی اقوام متحدہ میں قانونی نشست کی بحالی کے بعد، گزشتہ 50 سال چین کی پرامن ترقی اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے 50 سال ہیں۔ اس نصف صدی میں چینی عوام نے ہمیشہ خود کو بہتر بنانے کے جذبے کو آگے بڑھایا ہے، پیچیدہ حالات میں چین کی ترقی کی سمت طے کی اور چین اور بنی نوع انسان کی ترقی کی شاندار کہانی رقم کی ہے۔

گزشتہ 50سالوں میں چینی عوام نے دنیا بھرکے ممالک کےعوام کے ساتھ  تعاون کیا ہے، بین الاقوامی انصاف کی حفاظت کی ہے اور عالمی امن و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان 50 سالوں میں چینی عوام نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے اختیارات اور حیثیت کو برقرار رکھا ہے، کثیرالجہتی پر عمل کیا ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ چین کا تعاون مزید گہرا ہوا ہے۔

شی جن پھنگ نے واضح الفاظ میں کہا کہ  چینی عوام اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ترقی پذیر ممالک کی منصفانہ جدوجہد کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں۔ چینی عوام “تنزانیہ-زیمبیا ریلوے” سے لے کر “دی بیلٹ اینڈ روڈ” تک مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں، چین ترقی پذیر ممالک کواپنی صلاحیت کے مطابق مدد فراہم کرتا رہا ہے اور اپنی ترقی کے ساتھ دنیا کو نئے مواقع فراہم کرتا رہا ہے۔

شی جن پھنگ نے زور دیا کہ موجودہ دور میں ہمیں تاریخی رجحان سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے، محاذ آرائی کی بجائے تعاون کو برقرار رکھنا چاہیئے، بندش کی بجائے کھلے پن کو فروغ دینا چاہیئے، زیروسم گیم کی بجائے مشترکہ مفادات  کو فروغ دینا چاہیئے، ہر قسم کے تسلط، بالادستی، جبری سیاست، یک طرفہ پسندی اور تحفظ پسندی کی مخالفت کرنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ  چینی عوام ہمیشہ سے اقوام متحدہ کے وقار کا تحفظ کرتے ہیں، چین اور اقوام متحدہ کا تعاون ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوا ہے۔ چین نے ناصرف اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے پچاس ہزار سے زائد اہلکار بلکہ اقوام متحدہ کےواجبات ادا کرنے والا دوسرا بڑا ملک اور امن مشن کا دوسرا شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے انسانی حقوق کی ترقی کے لیے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ چینی خصوصیا ت کا حامل راستہ تلاش کیا اور چین نیز دنیا کے انسانی حقوق کے نصب العین کے لیے اہم خدمات سرانجام دی ہیں۔

صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ امن اورترقی ہمارا مشترکہ نصب العین، انصاف ہمارا مشترکہ نظریہ اور جمہوریت اور آزادی ہماری مشترکہ جدوجہد ہے۔ تنوع، انسانی تہذیب کی دلکشی ہے، یہ دنیا کی ترقی کے لیے توانائی اور طاقت کا ذریعہ ہے۔

تہذیبوں میں برتر اور کمتر کی  کوئی تمیز نہیں ہے۔ ہم صرف تبادلوں کے ذریعے مربوط ہو سکتے ہیں اور انضمام کے ذریعے ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ملک نے جو راستہ چنا وہ کارآمد ہوگا یا نہیں یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کیا وہ اپنے قومی اور وقت کے ترقیاتی رجحان کے مطابق ہے؟ کیا اس سے معاشی ترقی، سماجی ترقی، لوگوں کی زندگی میں بہتری اور سماجی استحکام آسکتا ہے؟ کیا اس سے لوگوں کی مدد  کی جاسکتی ہے؟ اور کیا یہ انسانی ترقی کی وجہ بن سکتا ہے؟

شی جن پھنگ  نے پرزور الفاظ میں کہا کہ بنی نوع انسان کو ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے مشترکہ طور پر ایک روشن مستقبل تشکیل دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک نظام کو دوسرے نظام سے یا ایک تہذیب کو دوسری تہذیب سے بدلنا نہیں ہے بلکہ مختلف سماجی نظاموں، مختلف نظریات، مختلف تاریخی ثقافتوں اور ترقی کی مختلف سطحوں والے ممالک، بین الاقوامی معاملات میں مفادات، حقوق اور ذمہ داریوں کو مشترکہ طور پر اٹھائیں، تاکہ ایک بہتر دنیا کی تعمیر کی جاسکے۔

شی جن پھنگ نے پر زور الفاظ میں کہا کہ عوام کی خاطر ترقی بامعنی ہے، ترقی صرف عوام پر منحصر ہےاور وہی ترقی کا محرک ہوتے ہیں۔ دنیا کے ممالک عوام کو مرکزی حیثیت دینے پر توجہ دیں اور اعلیٰ معیار، زیادہ موثر، منصفانہ، پائیدار اور محفوظ ترقی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ صرف جامع عالمی گورننس، زیادہ موثر کثیر جہتی میکانزم اور زیادہ فعال علاقائی تعاون کی تشکیل سے ہی ہم مؤثر طریقے سے عالمی چیلنجز کا جواب دے سکتے ہیں۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ ہم اقوا م متحدہ کے وقار اور حیثیت کا بھرپور تحفظ کرتے ہیں اورحقیقی کثیرالطرفہ پسندی پر عمل پیرا رہیں گے۔ عالمی ضوابط کو کسی انفرادی ملک یا گروپ کی بجائے اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کی اشتراک سے بنایا جانا چاہیئے اور 193 رکن ممالک کو مشترکہ طور پر عالمی ضوابط کی پاسداری  کرنی چاہیئے جس میں کوئی استثنا نہیں ہونا چاہیئے۔

صدر شی جن پھنگ نے زور دیا کہ نئے تاریخی نقطہ آغاز پر کھڑے ہو کر چین پرامن ترقی کے راستے پر ثابت قدم رہے گا، عالمی امن کا معمار، اصلاحات و کھلے پن پر قائم رہتے ہوئے عالمی ترقی کی خدمات سرانجام دینے والا اور کثیر الجہتی پر قائم رہتے ہوئے بین الاقوامی نظم و نسق کا تحفظ کرنے والا ملک رہے گا۔

شی جن پھنگ نے اپیل کی کہ ہم انسانی ترقی کے لیے دنیا کے پائیدار امن و ترقی اور بنی نوع انسان کا ہم نصیب معاشرہ تشکیل دینے کے لیے انتھک محنت کریں۔

یہ خبر پڑھیئے

صبح 6 سے رات 11 بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کو داخل ہونے سے روکا جائے، سندھ ہائیکورٹ

صبح 6 سے رات 11 بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کو داخل ہونے سے روکا جائے، سندھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ ہیوی ٹریفک کو آج سے دن کے اوقات میں …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons