چین کا عالمی ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے میں ذمہ دارانہ کردار

رواں برس کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 100ویں سالگرہ اور عوامی جمہوریہ چین کی اقوام متحدہ میں قانونی نشست کی بحالی کی 50ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

گزشتہ پچاس برسوں میں چین نے انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی اور عالمی ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ چین نے موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور دیگر ماحولیاتی معاہدوں سےمتعلق اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے نبھائی ہیں۔ چین  نے 1992 میں حیاتیاتی تنوع کنونشن پر دستخط کیے یوں چین اس کنونشن پر دستخط کرنے والے اولین فریقوں میں  شامل تھا۔ اس کے علاوہ چین نے ماحولیاتی تہذیب کے تصور کے تحت ترقی کی راہنمائی کی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے شعبے میں  شاندار نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔ 

چین کثیرالجہتی پر عمل پیرا ہے وسیع تعاون اور تبادلوں پر توجہ دے رہا ہے اور  “بیلٹ اینڈ روڈ” اور “جنوب۔جنوب تعاون” جیسے کثیر جہتی تعاون میکانزم  کی مدد سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں ترقی پذیر ممالک کو مدد فراہم کررہا ہے۔ اس وقت چین حیاتیاتی تنوع کنونشن اور اس کے  پروٹوکولز کے بنیادی بجٹ کا سب سے بڑا شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ عالمی ماحولیاتی فنڈز میں حصہ ڈالنے والا سب سے بڑا ترقی پذیر ملک بھی ہے۔ 

یہ خبر پڑھیئے

شان شاہد نے شوبز انڈسڑی میں بڑھتی طلاقوں کی وجہ بتا دی

شان شاہد نے شوبز انڈسڑی میں بڑھتی طلاقوں کی وجہ بتا دی

پاکستان شوبز کے سینئر اداکار شان شاہد کا بڑھتی شرح طلاق سے متعلق کہنا ہے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons