پروسیس شدہ غذائیں دماغی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں، امریکی تحقیق

پروسیس شدہ غذائیں دماغی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں، امریکی تحقیق

امریکہ کی اوہایواسٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پروسیس شدہ غذائیں دماغی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق پروسیس شدہ غذائیں یادداشت کو متاثر کر کے دماغ کو وقت سے پہلے بوڑھا کرسکتی ہیں۔ امریکہ کی اوہایواسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حال ہی میں تجربات سے ثابت کیا ہے کہ چوہوں کو جب انتہائی درجے کی پروسیس شدہ غذا دی گئی تو صرف چار ہفتوں میں ہی ان کی دماغی سوزش بڑھنے لگی جبکہ ان کی یادداشت بھی کمزور ہوئی۔

پروسیس شدہ غذا ایسے کھانوں کو کہا جاتا ہے جنہیں طویل عرصے تک استعمال کیلئے خاص پیکنگ میں رکھا جائے اور ان میں مختلف کیمیکل شامل کیے جائیں۔ ان کھانوں میں منجمند کباب، پیزا، سموسے، آلو کے چپس اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے اس خوراک کے منفی اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ غذائی ماہر ڈاکٹر حاجرہ احمد نے ایف ایم 98 دوستی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پروسسڈ خوراک کا زیادہ استعمال صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ابھی اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا یہ خوراک ڈیمنشیا اور الزائیمر کی وجہ بنتی ہے یا نہیں۔ اس تحقیق کے بعد ماہرین طب نے کہا ہے کہ جو بھی خوراک کھائی جائے اس کا تازہ ہونا ضروری ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان سارک کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار

پاکستان سارک کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سارک کی بحالی کے لیے اپنا …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons