تازہ ترین
چائنہ سیڈ بینک جنیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے

چائنہ سیڈ بینک جنیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے

دنیا بھر میں بیجوں کو محظوظ بنانے کیلئے ایک ہزار سیڈ بینکس موجود ہیں، جو مستقبل کیلئے حیاتیاتی تنوعکو محفوظ بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنوب مغربی چین کے شہر کھون منگ میں واقع جرمپلازم بینک برائے جنگلی نباتات کے سائنسدان گزشتہ 15 سال سے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

اس جگہ پر  جنگلی نباتات کے 10 ہزار سے زائد بیج  اصل حالت میں جمع کئے گئے ہیں۔ ان میں سے چند بیجوں کو انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ کیا گیا ہے، جبکہ دیگر بیج حیاتیاتی کیمیائی عمل کے ذریعے محفوظ بنائے گئے ہیں۔ چند بیج ایسے بھی ہیں جنہیں مائع نائٹروجن میں انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ کیا گیا ہے۔

لین لیانگ ایک ایسی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں جو میگنولیاز سمیت پودوں کی دیگر اصل اقسام کو محفوظ بنانے کیلئے کام کر رہی ہے ۔ یہ ٹیم بیج کے بجائے پودوں کے خلیات اور ٹشوز حاصل کے انہیں ان کی اقسام کے لحاظ سے لگ بھگ منفی 200 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔

لین لیانگ کے مطابق جس طرح بہت سی اقسام کے بیجوں کو منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کیا جاسکتا ہے، اس کے برعکس میگنولیاز کے بیج پانی کی کمی برداشت نہیں کر سکتے اور اپنی طاقت کھو دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ٹیم اصل خلیوں کو سومیٹک ایمبروجینک طریقہ کار اپناتے ہوئے زیادہ بڑی تعداد میں پودے پیدا کرنے کے قابل بنارہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انتہائی کم درجہ حرارت  یعنی کریوپریجریشن کے عمل سے بیجوں اور خلیوں کو بہترین افزائش کے ساتھ ساتھ انہیں لامحدود مدت تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ لین لیانگ اور ان کی ٹیم نے میگنولیاز کی 15 اقسام کو محفوظ کیا ہے، جو چین میں پائی جانے والی مجموعی اقسام کا 10 فیصد سے زائد ہیں۔ یہ ٹیم ملک بھر میں معدومیت کے خطرے سے دوچار میگنولیاز کو محفوظ بنانے کیلئے کام کر رہی ہے، جس میں سے نصف پودے آئندہ 10 سال میں محفوظ کرلئے جائیں گے۔

جرمپلازم بینک میں جنگلی اقسام کے بیجوں کو محفوظ بنانے کیلئے دیگر طریقے بھی اپنائے جا رہے ہیں۔ حیاتیاتی کیمیائی عمل سے  انہیں طویل عرصے تک اصل پودوں کے حصول کیلئے محفوظ  رکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نمونے بیجوں کے بجائے پودوں کے نباتاتی حصے یعنی پتے اور تنوں سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ اب تک حیاتیاتی کیمیائی عمل سے جنگلی پودوں کی 2 ہزار سے زائد اقسام ایک جگہ جمع کی جاچکی ہیں۔ جمع کی گئی اقسام میں زیادہ تر آرکڈ، فرن اور اپنے پتوں میں پانی جمع کرنے والے پودے ہیں، جنہیں روایتی طریقے سے زیادہ عرصے تک محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ جرمپلازم بینک کے ماہرین روایتی طریقے سے محفوظ بنائے گئے بیجوں کا معائنہ کرنے کیلئے زیر زمین تعمیر کئے گئے انتہائی ٹھنڈے کمرے میں جاتے ہیں، جہاں 90 فیصد سے زائد اقسام اس طریقے سے محفوظ بنائی گئی ہیں جو خشک اور جمی ہوئی ہیں۔ سیڈ بینک میں 10 ہزار سے زائد جنگلی پودوں کے بیج جمع کئے گئے ہیں جو چین میں پائی جانیوالی مجموعی تعداد کا ایک تہائی ہیں۔ یہاں بہت زیادہ سردی ہے اور درجہ حرارت منفی 20 سینٹی گریڈ ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں رکھے گئے چند بیج ہزاروں سال تک محفوظ رہیں گے۔

جرمپلازم بینک برائے جنگلی نباتات کے سربراہ لی تہ چو کا کہنا ہے کہ مختلف اقسام کے بیجوں میں سے چند بیج جنگلی کیلوں کی ہیں۔ فی الحال اس بینک میں بیجوں کی سات مختلف اقسام کو محفوظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگلی  اقسام میں مختلف جنیاتی تنوع کی کثیر تعداد شامل ہے، جیسا کہ کیڑوں اور  بیماری سے بچاؤ کے خلاف مزاحمتی خلیئے۔ یہ خلیے کیلوں کی مصنوعی اقسام کی افزائش کیلئے بھی انتہائی اہم ہیں۔

گزشتہ 30 سال سے مختلف بیماریاں، جن میں پاناما نامی فنگل پیتھوجن بھی شامل ہے، کیلوں کی فصل کو تباہ کر رہی ہیں۔ حالیہ چند برسوں سے ایک نیا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے، جس سے کیلوں کی ان اقسام کی شدید قلت کے خدشات بھی لاحق ہو گئے ہیں۔ لی تہ چو کے مطابق ارضیاتی تاریخ میں پودوں کی جنگلی اقسام مختلف مشکلات سے دوچار رہی ہیں۔ ان پراقسام پر مختلف وائرس اور قدرتی آفات حملہ آور ہوتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پودوں کی یہ اقسام وائرس سے زیادہ مؤثر طریقے سے نبرد آزما ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حقائق کے پیش نظر جنیاتی تبدیلیوں کے ذریعے محفوظ بنائے گئے جنگلی کیلوں کو معدومیت کے خطرات سے بچایا جا سکتا ہے۔

 جرمپلازم بینک مختلف اقسام کی شناخت کیلئے ڈی این اے بار کوڈنگ کا طریقہ بھی متعارف کروا رہا ہے۔ ڈی این اے بینک میں 7 ہزار جنگلی پودوں کے خلیات کو 2 ہزار جرثوموں کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے۔ سیڈ بینک ایشیاء میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، جس کا آغاز 2007ء میں گیا تھا اور اسے نہ صرف مؤثر تحقیقات کیلئے سال بہ سال توسیع دی گئی ہے بلکہ معدومیت کے خطرے سے دوچار جنیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کیلئے بھی وقف کر دیا گیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

چینی ادارے کی جانب سے پاکستان میں سیلاب زدگان کیلئے 30 لاکھ روپے مالیت کے امدادی سامان کی فراہمی

چینی ادارے کی جانب سے پاکستان میں سیلاب زدگان کیلئے 30 لاکھ روپے مالیت کے امدادی سامان کی فراہمی

چین کے سرکاری ادارے کی جانب سے سندھ کے سیلاب زدگان کیلئے 30 لاکھ روپے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons