تازہ ترین
قومی کمیشن برائے وقار نسواں اپنے سٹراٹیجک منصوبے کا اجراء اکتوبر میں کرے گا، چیئر پرسن نیلوفر بختیار

قومی کمیشن برائے وقار نسواں اپنے سٹراٹیجک منصوبے کا اجراء اکتوبر میں کرے گا، چیئرپرسن نیلوفر بختیار

قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئر پرسن محترمہ نیلوفر بختیار نے کہا ہے کہ قومی کمیشن برائے وقار نسواں ادارے کی سمت کو مزید واضح اور مستقبل کی سرگرمیوں کے تعین کیلئے اپنے تذویراتی منصوبے کی تیاری کے مراحل میں ہے ۔

اس تذویراتی منصوبے کی تیاری کیلئے قومی ادارے کو حقوق انسانی کے یورپی یونین کے اعانت شدہ حقوق پاکستان پراجیکٹ کا تعاون حاصل ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیساتھ منعقدہ ایک مشاورتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر سیشن کی مہمان خصوصی منزہ حسن ،سیکرٹری خواتین پارلیمینٹری کاکس ، مہمانان اعزاز محترمہ افشاں تحسین چیئر پرسن قومی کمیشن برائے حقوق اطفال اور وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی محترمہ شنیلہ رئوتھ او رحقوق پاکستان پراجیکٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما جعفر نے بھی خطاب کیا جبکہ سیشن کی صدارت حقوق پاکستان پراجیکٹ کے سینیئر ماہر اسامہ صدیق نے کی۔

اس مشاورتی سیشن کا مقصد قومی ادارہ برائے وقار نسواں کے تذویراتی منصوبے ( اسٹریٹجک پلان) کو حتمی شکل دینے کیلئے کرنے کے لئے آرا حاصل کرنا تھا ۔ سیشن کے دوران شرکاء کو پاکستان میں خواتین کے حقوق اور قومی ادارہ برائے وقار نسواں کے کام ، ماضی کی کارکردگی اورکامیابیوں کے بارے میں آگاہی بھی دی گئی ۔

سیشن میں شریک خواتین اور مرد صحافیوں نے قومی ادارہ برائے وقار نسواں کے فرائض کار اور مشن کی روشنی میں اپنی تجاویز اور آرا پیش کیں اور امید ظاہر کی کہ محترمہ نیلوفر بختیار کی قیادت میں کمیشن اپنے حقیقی مقاصد کی طرف تیزی سے پیشرفت کرے گا ۔

محترمہ نیلوفر بختیار نے کہا کہ کمیشن ملک بھر میں تمام متعلقہ کرداروں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔ او راس مشاورتی عمل کا بنیادی مقصد کمیشن کے قابل عمل اور موثرتذویراتی منصوبے ( سٹریٹجک پلان) کو حتمی شکل دینے کیلئےوسیع پیمانے پر رائے حاصل کرنا ہے۔

قومی ادارہ برائے حقوق نسواں کی چیئر پرسن نے کہا کہ کمیشن ” سرکاری اور نجی شعبے میں خواتین کی برابری کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے پاکستان کے ہر ضلع میں خواتین کی متنوع آوازوں کی نمائندگی کے لئے پرعزم ہے۔” انہوں نے کہا کہ ادارے کے اسٹریٹجک پلان کی تیاری اوراگلے اقدامات کا تعین کرتے ہوئے شرکاء کی رائے اور سفارشات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

چیئرپرسن نے عدالتوں میں خواتین کے خلاف مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات جیلوں میں قید خواتین کو انکے خاندان والے سہارا نہیں دیتے اور ان کے پاس فعال طور پر اپنے مقدمات کی پیروی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی سیاسی اور معاشی بااختیاری اور خواتین پر تشدد قومی ادارہ برائے وقار نسواں کی اولین اور بنیادی ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن اس وقت نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل تیار کرنے پربھی تیزی کیساتھ کام کر رہا ہے۔ اس موقع پر حقوق پاکستان پراجیکٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرمحترمہ سیما جعفر نے قومی ادارہ برائے وقارنسواں کی مواصلاتی حکمت عملی پر ایک انٹرایکٹو سیشن بھی منعقد کیا۔

سیشن کے دوران شرکاء نے خواتین کے اس اہم ترین قومی ادارے کی رسائی اور مرئیت کو بہتر بنانے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شرکا میں خواتین کے حقوق اور آئین کے تحت فراہم کردہ قانونی تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے حقوق پاکستان پراجیکٹ کے ذریعہ تیار کردہ مواد تقسیم کیا گیا جبکہ انہیں پروجیکٹ کے تحت تیار کردہ انسانی حقوق ریسورس پورٹل کی تفصیلات بھی آگاہی دی گئی۔

یہ خبر پڑھیئے

جاپان نے پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے لیے 3.87 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کر دی

حکومت جاپان نے پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے لیے 3.87 ملین امریکی ڈالر سے زائد …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons