امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد عہدے سے مستعفی

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

امریکی  محکمہ خارجہ نے افغانستان سے افراتفری میں امریکی انخلا اور طالبان کے  کنٹرول کے دو ماہ سے بھی کم وقت میں زلمےخلیل زاد کے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ اینٹونی بلنکن نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے لیے نئےنمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے نائب تھامس ویسٹ ہوں گے۔  تھامس ویسٹ سابق صدر اوباما کے دورمیں نیشنل سیکیورٹی کونسل کا حصہ رہے ہیں۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ اینٹونی بلنکن  نے ایک بیان میں کہا کہ مغرب افغانستان میں امریکی مفادات پر امریکی سفارت خانے کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یاد رہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد امریکی سفارت خانہ اب دوحہ میں قائم ہے۔ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ افغان مفاہمت کے لیے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنے کردار سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔ میں امریکی عوام کے لیے ان کی کئی دہائیوں کی خدمات کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ  افغانستان سے افراتفری میں امریکی انخلااور طالبان کے اقتدار میں آنے  پر زلمے خلیل زادا کو تنقید کا سامنا تھا۔ تاہم انہوں نے جنگ کے اس طرح سے خاتمے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ افغانستان سے انخلا کے بعد ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہوا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔یکن اشرف غنی کے اچانک جانے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹ گیا۔اشرف غنی کے ملک سے نکل جانے کے بعد یہ منصوبہ ناکام ہوااور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔

یاد رہے کہ افغان نژاد زلمے خلیل زاد ، سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں ایک سینئر شخصیت رہے۔ جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلاء کے لیے مذاکرات کے لیےمعمورکیا تھا ۔ جوبائیڈن انتظامیہ نے انہیں عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے کا کہا تھا۔

یہ خبر پڑھیئے

ایرانی پارلیمنٹ نے ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا بل منظور کر لیا

27 نومبر کو ایرانی پارلیمنٹ نے ایران کے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے کا …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons