عالمی رہنماؤں کا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر تبادلہ خیال نہایت اہم ہے، ماہرین

اقوام متحدہ کے “حیاتیاتی تنوع کنونشن” کے فریقوں کی 15ویں کانفرنس گیارہ تاریخ کو چین کے شہر کھون منگ میں شروع ہوئی۔ 

چین میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی  نمائندہ  بیاٹ ٹراکمن نے کانفرنس میں شرکت کے موقع پر چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو  دیتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنماؤں کا  حیاتیاتی تنوع کے تحفظ  پر تبادلہ خیال نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مختلف حیاتیات کی معدومیت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ کانفرنس موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پیرس کلائمیٹ چینج کانفرنس کی طرز پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں انتہائی موئثر ثابت ہو گی۔ انہوں نے توانائی کی منتقلی کو فروغ دینے میں چین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے  کہا کہ چین 2030 تک بنیادی توانائی کی کھپت میں غیر رکازی ایندھن کا تناسب 25 فیصد تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں فطرت کا احترام کرنا چاہیے اور یہی موجودہ کانفرنس کا موضوع بھی ہے۔ ہمیں ماحولیاتی نظام کے تحفظ، بحالی اور پائیدار استعمال کی ضرورت ہے۔صرف اسی صورت میں انسان اور دیگر حیات ہم آہنگی سے رہ سکتے ہیں اور کرہ ارض کے وسائل کا معقول استعمال کر سکتے ہیں۔ 

یہ خبر پڑھیئے

شان شاہد نے شوبز انڈسڑی میں بڑھتی طلاقوں کی وجہ بتا دی

شان شاہد نے شوبز انڈسڑی میں بڑھتی طلاقوں کی وجہ بتا دی

پاکستان شوبز کے سینئر اداکار شان شاہد کا بڑھتی شرح طلاق سے متعلق کہنا ہے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons