تازہ ترین
کووڈ-19 کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور بے چینی سے مردوں کی نسبت خواتین زیادہ متاثر ہوئی ہیں، تحقیق

کووڈ-19 کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور بے چینی سے مردوں کی نسبت خواتین زیادہ متاثر ہوئی ہیں، تحقیق

کووڈ-19 کی حالیہ وباء نے متعدد افراد کی صحت پر تباہ کن مرتب کئے۔ ایک تحقیق کے مطابق سال 2020ء میں اس وباء کے باعث بے چینی اور ذہنیدباؤمیں ایک چوتھائی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ذہنی امراض کے عالمی دن سے ایک روز قبل شائع ہونے والی”دی لانسٹ” کی رپورٹ کے مطابق اس دوران عام حالات کی نسبت ذہنی دباؤ کے 7 کروڑ 60 لاکھ زائد کیسز رپورٹ ہوئے، بے چینی کے بھی 5 کروڑ 30 لاکھ کیسز سامنے آئے۔

گزشتہ برسوں سے موازنہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2020ء کے دوران ذہنی دباؤ اور بے چینی میں بالترتیب 28 اور 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خواتین میںیہ تاثر تباہ کن رہا، کیونکہ وباء کے دوران تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ خواتین ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں، جو مردوں کی تعداد 1 کروڑ 80 لاکھ سے تقریبا 2 گنا زائد ہے۔

عالمی وباء کووڈ-19 کے ذہنی صلاحیت اور صحت پر مرتب ہونیوالے اثرات کی تحقیق کرنے والے پہلے عالمی ادارے کے مطابق وباء کے باعث تقریبا 5 کروڑ 20 لاکھ خواتین بے چینی کا شکار ہیں، جبکہ مردوں میں یہ تعداد خواتین سے تقریبا نصف یعنی 2 کروڑ 40 لاکھ ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف ایلزے فیراری کے مطابق عدم مساوات اور معاشرتی عوامل نے عوام کی ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد وجوہات سمیت معاشرتی و معاشی مسائل کی وجہ سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

دوران تحقیق ماہرین کو ذہنی صحت اور انفیکشن کی شرح کے باہمی تعلق کے بھی شواہد ملے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن ممالک میں کرونا وائرس کی وجہ سے زیادہ سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا وہاں ذہنی امراض کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ڈامین سینٹوموریو نے کہا ہے کہ انکی ریسرچ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ دنیا بھر میںذہنی امراض کیلئے صحت کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر ذہنی دباؤ اور بے چینی کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وباء سے قبل دنیا کے بیشتر ممالک میں ذہنی امراض سے متعلق خدمات کا نظام منظم نہیں تھا۔

کووڈ-19 کی وجہ سے ذہنی امراض سے متعلقہ خدمات کی اضافی مانگ کو پورا کرنا مشکل ضرور ہوگا، لیکن اس حوالے سے اقدامات نہ اٹھانے کی کوئی بھی وجہ نہیں ہونی چاہیئے۔ دوران تحقیق ایک حیرت انگیز حقیقت بھی سامنے آئی کہ 2020ء میں عمر رسیدہ افراد کی نسبت نوجوانوں کی زیادہ تعداد ذہنی دباؤ اور بے چینی سے متاثر ہوئی۔

نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کے ایک لاکھ میں سے 1 ہزار 118 اضافی کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ بے چینی کے بھی ایک لاکھ میں سے 1 ہزار 131 زائد کیس سامنے آئے ہیں۔ ایلزے فیراری کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر پابندیوں اور تعلیمی اداروں کی بندش سے نوجوانوں کو ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور سیکھنے کا بہت کم موقع میسر آیا، جس سے ان کی استعداد محدود ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بیروزگاری کے خدشات نے بھی نوجوانوں میں ذہنی امراض کو جنم دیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

راولپنڈی ٹیسٹ کا دوسرا روز، پاکستان نے 181 رنز بنالیے

راولپنڈی ٹیسٹ کا دوسرا روز، پاکستان نے 181 رنز بنالیے

راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں 657 رنز کے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons