میری نظر میں زندگی کبھی ختم نہ ہونے والی اولمپک گیمز کی مانند ہے: نابینا چینی خاتون کھلاڑی کی داستان

میری نظر میں زندگی کبھی ختم نہ ہونے والی اولمپک گیمز کی مانند ہے: نابینا چینی خاتون کھلاڑی کی داستان

جون 1984 میں امریکہ کے شہر نیویارک میں 23 سالہ پھنگ یالی نے اپنے کوچ تیان مائیجو کی آستینیں پکڑ کر 7ویں پیرالمپک گیمز کے ٹریک اینڈ فیلڈ فائنل مقابلوں کے میدان میں قدم رکھا۔ پھنگ یالی نے خواتین کے بی 2 لمبی چھلانگ کے مقابلے میں حصہ لیا۔ اس مقابلے  میں حصہ لینے والی تمام کھلاڑی بینائی سے محروم تھیں مقابلہ شروع ہونے والا ہے۔

کوچ تیان مائیجو  نے پھنگ یالی سے کہا “میں جانتا ہوں کہ آپ کچھ نہیں دیکھ سکتیں ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کے بارے میں سوچیں کہ آپ اولمپک گیمز  کے ویکٹری اسٹینڈ پر کھڑی ہیں اور سونے کا تمغہ آپ کے گلے میں لٹکا ہوا ہے اور قومی ترانہ سنایا جا رہا ہے۔ یہ کتنے فخر کی بات ہے ۔” 


پھنگ یالی  کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ۔ وہ ریفری کی قیادت میں  ٹریک پر چلی گئیں ۔ پھنگ یالی نے تیر کی مانند چھلانگ لگا دی۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کےجسم میں بجلی کوند گئی ہو۔ انہوں  نے اپنے ہاتھوں کو ہوا میں بلند کیا ، جیسے وہ کچھ پکڑ رہی  ہوں۔ان کی دو ٹانگیں ایک کے بعد ایک ہوا میں قدم رکھ رہی تھیں  ، ان کا جسم پوری طرح پھیل رہا تھا ، گویا وہ کشش ثقل سے آزاد ہو گئی ہیں۔


پھنگ یالی کا سکور ، سکور بورڈ پر دکھایاگیا ، اور  کھیل کے میدان میں تالیاں گونجنے لگیں۔ چار  میٹر  اٹھائیس  سینٹی میٹر لمبی چھلانگ لگا کر پھنگ یالی نے سونے کا تمغہ جیت لیا ۔ چین کا پانچ ستاروں والا سرخ پرچم قومی ترانے کی دھن پر  نیویارک کی فضاؤں میں پوری آب و تاب سے لہرانے لگا۔ دنیا بھر سے وہ لاکھوں آنکھیں جو ٹی وی اسکرین پر یہ منظر دیکھ رہی تھیں وہ اس چینی لڑکی  کی بے مثال جرت اور شاندار کارکردگی پر اسے داد تحسین دے رہی تھیں۔ساتویں پیرالمپک گیمز کے بعد پھنگ یالی نے کھیل کے میدان کو الوداع کہہ دیا ۔

انہوں نے شادی کر لی اور ایک فیکٹری میں ملازمت اختیار کی، ان کے یہ پرسکون زندگی زیادہ عرصہ تک نہ چل پائی ۔ ان کا بچہ ان  کی طرح پیدائشی طور پر موتیا سے متاثر تھا ۔ بچہ بیمار تھا ، انہیں طلاق ہو چکی تھیں اور ستم ظریفی یہ کہ ان کا روزگار بھی چھوٹ چکا تھا۔ لیکن انہوں نے تقدیر  کے سامنے ہمت نہیں ہاری اور ایک اتھیلیٹ کی طرح زندگی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔انہوں نے گھر میں ایک چینی مساج کلینک کھولا اور اپنی نئی زندگی کا آغاز کردیا۔انہوں نے اپنے بیٹے کی نہایت احتیاط کے ساتھ دیکھ بھال کی، بچہ صحت مند طور پر بڑا ہوا۔ وقت گزرتا رہا ان کے بچے کو یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ بہتر زندگی کے حصول کے لئے پھنگ یالی نے روز گارکے مواقع کی تلاش کے حوالے سے ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لیا ۔ اگر کوئی فنڈز دینے والا  ادارہ  آپ کی مدد کرنے کو تیار  ہو  تو آپ 2 ملین یوآن وینچر فنڈ حاصل کر سکتے ہیں ۔

اس پروگرام میں میزبان نے پھنگ یالی سے پوچھا کہ 1984 میں چین کے لیے پہلا پیرالمپک گیمز  کا گولڈ میڈل جیتنے کے بعد آپ کی زندگی بہت خاموش رہی ۔ بعد میں پتہ چلا کہ آپ بے روز گار  ہوگئیں ،آپ کی عائلی زندگی ناکامی سے دوچار ہوئی، آپ نے اپنے بچے اور ذاتی کاروبار کی خود دیکھ بھال کی۔ آپ کو تن تنہا بہت سی مشکلات کا سامنا تھا ۔ آپ اس سب کے باوجود گھبرائی نہیں ، آپ کے قدم ڈگمگائے نہیں اور آپ کبھی پیچھے نہیں ہٹیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

پھنگ یالی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں مجبوری میں بے روز گار ہو گئی تھی ۔ لیکن میں ایک ماں ہوں ۔ خاص طور پر میرا  بچہ  ایک خصوصی بچہ ہے۔ ماں ہونا پوری زندگی کی ملازمت ہے۔ عام لوگوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ میں اولمپک گیمز کے میدان سے کافی دور ہو گئی تھی ۔ لیکن میری نظر میں زندگی کبھی ختم نہ ہونے والی اولمپک گیمز کی مانند ہے ۔

یہ خبر پڑھیئے

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons