چین امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی سخت مخالفت کرتا ہے

چین امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی سخت مخالفت کرتا ہے

چین نے امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے منصوبے کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

امریکی حکومت تائیوان کو آٹھ ارب امریکی ڈالرز کی مالیت کے ایف سولہ وی جنگی طیاروں کی فروخت کے معاہدے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان حوا چھون اینگ نے سولہ تاریخ کو اس حوالے سے کہا کہ چین اس بات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور چین نے امریکہ سے اس بات کی وضاحت طلب کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیار کی فروخت “ایک چین” کےاصول اور چین-امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور چین کے اقتداراعلیٰ اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ترجمان حوا چھون اینگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ تائیوان کے امور چین کے اقتداراعلیٰ اور علاقائی سالمیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

چین نے مطالبہ کیا کہ امریکہ متعلقہ امور کو واضح طور پر سمجھتے ہوئے ” ایک چین کے اصول اور چین-امریکہ تین مشترکہ اعلامیو٘ں کے مطابق تائیوان کو ایف سولہ وی جنگی طیارہ کی فروخت نہ کرے ۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ تائیوان کے ساتھ تمام عسکری رابطے فوری طور پر ختم کرے۔ ورنہ چین اس کا سخت جواب دے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

ثروت گیلانی کا سوشل میڈیا صارفین کو سخت پیغام

ثروت گیلانی کا سوشل میڈیا صارفین کو سخت پیغام

شوبز سٹار ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ آن لائن منفی مہم فنکاروں کو شدید …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons