غیرملکی ماہرین کی ہانگ کانگ کے قانون ساز ادارے پر دھاوا بولنے کے واقعے کی مذمت

شنہوا نیوزایجنسی کے مطابق یکم جولائی کو ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے کچھ شرپسند عناصر نے قانون ساز ادارے کی عمارت پر پرتشدد انداز میں دھاوا بول دیا اور عمارت میں موجود مختلف آلات و تنصیبات کو تباہ کر دیا۔ غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز نے اس واقعے کی سنگین مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی انتظام اور سماجی نظم و نسق کو نقصان دینے والا عمل ہے۔ انہوں نے ہانگ کانگ اور چین کے داخلی امور میں غیرملکی قوتوں کی مداخلت بند کرنے کی اپیل بھی کی۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد قائم امن اور سفارتی امور کے انسٹیٹیوٹ کے سربراہ فرہاد آصف نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی کم ہی نظیر ملتی ہے۔ ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں اس طرح کی کارروائیاں کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہانگ کانگ چین کا اندرونی معاملہ ہے، کسی بھی غیرملکی طاقت کو اس میں مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اگر اس قسم کا واقعہ کسی بھی مغربی ملک میں رونما ہوتا ، تو وہاں کی حکومت مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات اختیار کرتی۔

فرانس کے ماہر پائری پیکرٹ نے کہا کہ ہانگ کانگ میں رونما ہونے والا پرتشدد واقعہ ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔ یہ ایک ملک دو نظام کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور ہانگ کانگ کے رہنے والوں کے بنیادی مفادات کے بھی خلاف ہے۔ ہانگ کانگ کے واقعے پر مغربی ذرائع ابلاغ جانبدارانہ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons