سی پیک ملکی ترقی کا ایک منفرد منصوبہ ہے جوتیزی سے کامیابی کی جانب گامزن ہے…

پاکستان اور چین کی لازوال دوستی نا صرف آزمائش کی ہر گھڑی پر پوری اتری ہے بلکہ دونوں ممالک ترقی کی منازل طے کرنے کے لیئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
گوادر سے چین کے شہر کا شغر تک 2 ہزار 44 کلومیڑ طویل اس منصوبے کو 20 اپریل 2015 کو پاکستان میں چین کے صدر شی جن پھنگ کے تاریخی دورے کے دوران حتمی شکل دی گئی ۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی 51 یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔46 ارب ڈالر سے زائد لاگت سے شروع ہونے والا سی پیک منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور ہم آہنگی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ سی پیک منصوبے کی تکمیل سے نا صرف پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کو تقویت ملے گی بلکہ توانائی اور مواصلاحات سمیت متعدد شعبے مضبوط ہوگے اس کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوگے۔ سی پیک منصوبے کے تحت توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیئے خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ روس اور وسط ایشیائی ریاستیں گوادر کی بدولت بہت جلد پاکستان پر انحصار کریں گی۔ سی پیک منصوبوں کا پہلا مرحلہ 2018 کے آغاز میں مکمل ہوجائے گا جبکہ دوسرامرحلہ 2020اور تیسرامرحلہ 2030 میں مکمل ہو گا۔

یہ خبر پڑھیئے

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے چینی سفیر نونگ رونگ کی ملاقات

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے چینی سفیر نونگ رونگ کی ملاقات

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے پاکستان میں  تعینات چینی سفیر نونگ رونگ نے اسلام …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons