برطانیہ نے امریکی دباؤ کے باعث ہواوے پر پابندی عائد کی ہے، قومی سلامتی کی وجہ سے نہیں، سابق برطانوی وزیر

برطانیہ نے امریکی دباؤ کے باعث ہواوے پر پابندی عائد کی ہے، قومی سلامتی کی وجہ سے نہیں، سابق برطانوی وزیر

 برطانیہ کے سابق وزیر تجارت  وصنعت  سرونس کیبل نے کہاہے کہ  چین کی  ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے فائیو جی  آلات اور خدمات پر پابندی عائد کرنے  برطانوی حکومت کا فیصلہ امریکہ کے دباؤ کا نتیجہ تھا ،جبکہ قومی سلامتی سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔سابق   برطانوی  وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی قیادت میں 2010 سے 2015 تک تشکیل پائی جانے والی   اُس وقت  کی مخلوط حکومت میں  خدمات سر انجام دینے والے  سرونس کیبل نے کہا کہ برطانیہ نے  ہواوے پر پابندی عائد کی تھی  جبکہ اس ضمن  میں برطانوی حکومت پر  امریکی دباو موجود تھا۔سرونس کیبل  نے مزید کہا کہ اس  دوران برطانوی انٹیلی جنس اور سیکورٹی سروسز نے  متعد د بار اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ ہواوے سروسز کے استعمال سے  قومی سلامتی  کو کوئی خطرات لاحق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ  برطانوی وزیر اعظم  بورس جانسن نے  چودہ جولائی2020  کو  برطانوی ٹیلی کام کی کمپنیوں پر  پابندی عائد کرتے  ہوئے برطانیہ  کی تمام  ٹیلی کام  کمپنیوں  میں نصب شدہ آلات 2027 تک ہٹانے کاحکم دیاہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین پین   ا س امر کی تصدیق کی ہے کہ   فائیوجی ٹیکنالوجی پر  عائد کی جانے والے   برطانوی اقدامات چینی کمپنیوں پر دباو بڑھانے  کے حربے تھے ۔چینی ترجمان کا مزید کہناتھا کہ امریکہ  کی طرف سے شروع کیا گیا ‘کلین نیٹ ورک’ پروگرام ‘ جبری  سفارت کاری’ کو واضح کر رہا ہے،جس کے تحت توشیبا اور السٹوم سے لے کر ہواوے تک اور سام سنگ اور تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی لمیٹڈ پرپابندیاں عائد  کی گئیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ  امریکہ کو اپنے  جبرانہ رویے پر یقینا عالمی برادری کی طرف سے وسیع پیمانے پر مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

ورلڈ اکنامک فورم سے چینی صدر کا خطاب، امید کا ایک اور پیغام

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons