انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین کے گروپ کی جانب سے گوانتاناموبے جیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت

انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین کے گروپ کی جانب سے گوانتاناموبے جیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت

امریکہ کی طرف سے گوانتانامو بے جیل کے قیام کے 20سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین نے ایک بیان جاری کیا جس میں گوانتانا موبے جیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھر پور مذمت کی گئی ہے۔

کیوبا میں امریکی بحری اڈے پر واقع یہ حراستی کیمپ 2002 میں افغانستان سے پکڑے گئے قیدیوں کو رکھنے کے لئے قائم کیا گیا تھا، ایک وقت میں یہاں  تقریباً 780 افراد رہائش پذیر تھے، جن میں سے زیادہ تر کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لیا گیا تھا۔

گوانتاناموبے میں اب بھی 39 افراد قید ہیں جن میں سے صرف نو پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، یا انہیں جرائم کی سزا سنائی گئی ہے۔ 2002 اور 2021 کے درمیان، نو زیر حراست افراد کی حراست میں موت ہوئی، دو اموات فطری تھیں اور سات نے مبینہ طور پر خودکشی کی۔ کسی پر بھی جرم ثابت نہیں ہوا نہ ہی کسی کو سزا دی گئی۔

انسانی حقوق کونسل کے ایک نو منتخب رکن نےامریکہ سے گوانتاناموبے جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ دو دہائیوں سے “مقدمہ کے بغیر من مانی نظربندی، تشدد اور بدسلوکی ناقابل قبول عمل ہے، خاص طور پر ایسی حکومت کی جانب سے جو انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

ورلڈ اکنامک فورم سے چینی صدر کا خطاب، امید کا ایک اور پیغام

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons