ایلین گو، چینی نوجوانوں کے عزم کو بیان کرتی ہیں

ایلین گو، چینی نوجوانوں کے عزم  کو بیان کرتی ہیں_fororder_66
ایلین گو، چینی نوجوانوں کے عزم  کو بیان کرتی ہیں_fororder_77
ایلین گو، چینی نوجوانوں کے عزم  کو بیان کرتی ہیں_fororder_88

ایلین گو، ورلڈ ایکسٹریم گیمز میں سونے کا تمغہ جیتنے والی پہلی چینی کھلاڑی ہیں۔

وہ پہلی چینی کھلاڑی ہیں، جنہوں نے انتہائی کھیلوں کے مقابلے میں فری اسٹائل اسکیئنگ ‘یو شیپڈ’ فیلڈمقابلے میں طلائی تمغہ جیتا۔ وہ پہلی چینی کھلاڑی ہیں، جنہوں نے اپنے پہلے موسم سرما کے انتہائی کھیلوں کے مقابلوں میں 2 گولڈ میڈل جیتے۔

وہ ایک ایسی طالبہ بھی ہیں جن کا امریکی کالج کے داخلے کے امتحان (SAT) میں پورے سکور سے صرف 20 پوائنٹس کم تھے، لیکن وہ سخت محنت کے بعد سٹینفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئیں۔

وہ 2003 میں امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد امریکی اور والدہ چینی ہیں۔ 2019 میں، 16 سالہ ایلین گو نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے “رپورٹ آن چائنیز فری اسٹائل سکئیر گو آئلنگ” شائع کی، جس میں اعلان کیا کہ اس نے باضابطہ طور پر اپنی امریکی شہریت ترک کر دی اور چینی شہریت اختیار کر لی ہے۔

میڈیا اور کھیلوں کے شائقین کی جانب سے بے تحاشہ تحسین کے باوجود ایلین گو ہمیشہ پرسکون رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ “آپ کی تعریف اور محبت کے لئے بہت شکریہ، درحقیقت، مجھے نہیں لگتا کہ میں پرفیکٹ ہوں، میں صرف ہر روز اور وہ کرتی ہوں جو میں کرنا چاہتی ہوں۔

میں بیجنگ سرمائی اولمپکس کے ذریعے چین اور دنیا کے تمام دوستوں کے ساتھ اپنی محبت شیئر کرنے کی امید کرتی ہوں۔”

یہ خبر پڑھیئے

ورلڈ اکنامک فورم سے چینی صدر کا خطاب، امید کا ایک اور پیغام

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons