چین میں شیر کے سال کی آمد پر نئے ڈاک ٹکٹس کا اجراء

چین میں شیر کے سال کی آمد پر نئے ڈاک ٹکٹس کا اجراء

چینی محکمہ ڈاک نے شیر کے سال کی آمد پر خصوصی ڈاک ٹکٹس کا سیٹ جاری کیا ہے، جو چینی سال کی مناسبت سے 1980ء میں پہلی بار ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کے بعد سے لگاتار 42واں سال ہے۔ گزشتہ سال کے برعکس، جب صرف ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا تھا، رواں سال 2 ڈاک ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں، جن میں الگ الگ مناظردکھائے گئے ہیں۔ ٹکٹ کے اس سیٹ کی قیمت 2.40 یوآن یعنی تقریباً 38 امریکی سینٹ مقرر کی گئی ہے۔

ان میں سے پہلے ڈاک ٹکٹ کا نام کواَو یون چھانگ لونگ رکھا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ “قومی خوش قسمتی اور خوشحالی” ہے۔ اس ٹکٹ میں ایک بارعب شیر کو دور کے منظر پر نگاہ جمائے دکھایا گیا ہے، جس سے نئے سال میں چین کے خود کو ترقی دینے کے عزم اور خواہش کو فنکارانہ انداز میں ظاہر کیا گیا ہے۔ حُو یون چی شیانگ نامی دوسرے ڈاک ٹکٹ پر دل کو چھو لینے والی تصویر شائع کی گئی ہے، جس میں ایک شیرنی اپنے دو بچوں پر سر جھکائے کھڑی ہے۔ اس ٹکٹ سے چینی عوام کیلئے خاندانی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ان ڈاک ٹکٹس کے ڈیزائنر آرٹسٹ فنگ تا چونگ کا کہنا ہے کہ ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن نہ صرف ایک فنکارانہ تخلیق ہے بلکہ یہ سماجی ذمہ داری کا بھی حصہ ہے اور ایک فنکار کی حیثیت سے وہ اس کام کو بہادری سے سرانجام دینے کے پابند ہیں۔ سنگ حوا یونیورسٹی میں اکیڈمی آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے سربراہ اور چائنہ آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین لو شیاؤ پو کا کہنا ہے کہ ڈاک ڈاک ٹکٹ اپنا فن کاغذ پر منتقل کرنے کا ایک انداز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معروف فنکاروں کی فنکارانہ تخلیقات کو ہزاروں گھرانوں تک پہنچانے کا آسان ترین طریقہ ہے اور اس طرح محض ایک مربع انچ پر بنائی گئی تصویر لامحدود عرصے تک روشنی بکھیرتی رہتی ہے۔

چائنہ پوسٹ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے ڈپٹی جنرل مینیجر کھانگ ننگ کے مطابق ڈاک ٹکٹ کا اجراء وقت اور سماجی ترقی کے تناظر میں اسی تعدد میں جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں سال کی مناسبت سے جاری ہونیوالے ڈاک ٹکٹس کو نمائندہ سٹیمپ آرٹ تصور کیا جاتا ہے۔ کھانگ ننگ نے بتایا کہ اس حوالے سے معروف فنکاروں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ چینی لوگوں کو نئے سال کی مبارکباد دینے کیلئے ثقافتی تصورات کو شامل کرتے ہوئے ڈاک ٹکٹ تیار کریں۔

یہ خبر پڑھیئے

ورلڈ اکنامک فورم سے چینی صدر کا خطاب، امید کا ایک اور پیغام

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons