اقوام متحدہ میں چین کے مؤثر کردار کی دنیا معترف ہے۔ سابق سفیر پاکستان مسعود خالد

چین میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں چین کی قانونی نشست کی بحالی میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کی مستقل نشست کی بحالی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ایف ایم 98 دوستی چینل کے پروگرام ہم قدم میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ستمبر 1971 میں امریکہ نے تائیوان اور عوامی جمہوریہ چین کو اقوام متحدہ کی نشست پر ایک ساتھ بٹھانے کی کوشش کی تھی تاہم اُس وقت کے پاکستانی مستقل مندوب آغاشاہی نے امریکہ کے اس اقدام کی بھر پور مخالفت کی۔ اس وقت کے پاکستانی مستقل مندوب آغاشاہی نے کہا تھا کہ ایک نشست چین اور تائیوان دونوں کیلئے مختص نہیں کی جاسکتی کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ تائیوان چین کا ایک صوبہ ہے ۔

سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ1949 میں جب چین آزاد ہوا تو پاکستان پہلااسلامی ملک تھا جس نے چین کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا۔ مسعود خالد نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان اور چین کے مابین تعاون انتہائی مضبوط ہے اور دونوں ممالک نے ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کا بھرپورساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ستائش ہے کہ اقوام متحدہ کا مستقل رکن اور ویٹو پاور چین ،پاکستان کا ایک عظیم دوست ہے۔

مسعود خالد کا مزید کہنا تھا کہ امریکی دانشوروں کا کہنا ہے کہ تائیوان تنازع پر اگر امریکہ اور چین کے مابین محاذ آرائی ہو جاتی ہے تو امریکہ بالکل اس قابل نہیں ہے کہ وہ چین کی مزاحمت کو روک سکے ۔ خالد مسعود نےکہا کہ تائیوان تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے چین کا حصہ ہے اور اس پر امریکی قبضہ کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں ۔ سابق سفیر کا مزید کہنا تھا کہ اس بات میں اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ امریکہ چین کی ترقی کو روکنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ میں چین کا کردار انتہائی اہم ہے اور چین نے دنیا کے پس ماندہ ممالک کی بے حد مدد کی ہے اور اس لحاظ سے چین کا امریکہ کی نسبت کئی گنا زیادہ کردار ہے، جس کو عالمی برادری تسلیم بھی کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام کے منصوبے سی پیک پر ہرزہ سرائی کر رہے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے تحت ترقی پذیرممالک میں ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔

سابق سفیر پاکستان نے کہا کہ چین کی طاقت کے مقابلے کیلئے بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ مسعود خالد نے مزید کہا کہ چین بھی افغانستان میں قیام امن کا خواہشمند ہے اور چین افغانستان میں خونریزی کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین نے طالبان کو کہا ہے کہ چین افغانستان کی تعمیر نو کیلئے تیار ہے تاہم اس ضمن میں افغانستان کو اس با ت کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ افغانستان کی سرزمین چین سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

امریکہ تائیوان سے متعلق امور میں مداخلت کر رہا ہے۔ نغمانہ ہاشمی ۔

پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر سفارت کار اور چین میں تعینات پاکستان کی سابق سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ پاکستان ہی کی بدولت چین اور امریکہ کے مابین دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے کی راہ ہموار ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی نوآبادتی نظام جہاں بھی قائم رہا ہے وہاں سامراجی قوتوں نے کوئی نہ کوئی تنازع ضرور چھوڑا ہے۔

سابق سفیر نے مزید کہا کہ امریکہ تائیوان کو چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک طرف تو ون چائنہ پالیسی کو تسلیم کر رہا ہے تاہم دوسری جانب امریکہ تائیوان سے متعلق اُمور میں دخل اندازی کر رہا ہے اور تائیوان کے علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔ نغمانہ ہاشمی نے مزید کہا کہ امریکہ کو اس بات کا پوری طرح ادراک ہے کہ وہ نہ تو تائیوان پر قبضہ کرسکتا ہے اور نہ ہی تائیوان کی آزادی کا اعلان کروا سکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ چین 1940 کی دھائی کا چین نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اب ایک عظیم طاقت بن چکا ہے اور چین فوجی لحاظ سے ایک قوت ہے ۔ نغمانہ ہاشمی نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان پر قبضہ کرنے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چین کی کووڈ۔۱۹ کی وباء کے خلاف جدوجہد قابل ستائش ہے۔ سابق سفیر نے مزید کہا کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک نے حالیہ وباء کے تناظر میں چین کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور چین کو دنیا سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

نغمانہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ چین نے اپنے سیاسی نظام کے تحت حالیہ وباء سے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہ اس کے برعکس امریکہ اور مغربی ممالک کے صحت عامہ کے شعبے کو حالیہ وباء سے شدید نقصان پہنچا ہے ۔ نغمانہ ہاشمی نے مزید کہا کہ چین نے حالیہ وباء کے دوران ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سفیر نے کہا کہ امریکی سینیٹ میں چین کی ترقی کو روکنے کے حوالے سے ایک قانون پاس کیا گیا جو دراصل امریکہ کی گھبراہٹ کو ظاہر کرتا ہے اور امریکہ اس حوالے سے اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے گا-

پروگرام میں نیو یارک سے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی افتخار علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 25 اکتوبر 1971 کو پاکستان اور الجیریا سمیت دیگر ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ عالمی ادارے میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست کو بحال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا جبکہ امریکہ کو اس ضمن میں بُری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ،کیونکہ امریکہ تائیوان کو اقوام متحدہ کی یہ نشست دینا چاہتا تھا۔ افتخار علی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں چین کی نشست کی بحالی میں پاکستان کا کردار انتہائی غیر معمولی تھا۔

یہ خبر پڑھیئے

امریکی کمپنیاں پاکستان کے مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کر کے بہترین منافع کما سکتی ہیں، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ کا سلامتی کونسل کے صدر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons