صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا معذور افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے پر زور

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا معذور افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے پر زور

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے معذور افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ معذور افراد کو ماضی میں معاشرے میں نظر انداز کیا گیا، لوگوں نے معذور افراد کے لیے نامناسب اصطلاحات استعمال کیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایدا ریوا سکول فار بلائنڈ اینڈ ڈیف (Ida Rieu School for Blind and Deaf) میں ترک انٹرنیشنل کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی (TIKA) کے عطیہ کردہ بلائنڈ فٹ بال اور کرکٹ پریکٹس گرائونڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

عارف علوی نے کہا کہ مشترکہ تعلیمی نظام ایسے لوگوں کے بارے میں ذہنیت کو تبدیل کرے گی،دنیا نے ایسے تعلیمی نظام کو اپنانا شروع کردیا ہے تاکہ معذور افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانا یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بصری، سماعت یا بولنے سے محروم لوگوں کی عقل کی سطح عام لوگوں سے کم نہیں ہوتی۔ صدر مملکت نے پاکستان کی بصارت سے محروم سفارتکار صائمہ سلیم کی مثال دی اور یو این جی اے میں ان کی متاثر کن تقریر کا بھی ذکر کیا۔عارف علوی نے افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں اب بھی معذور افراد کو قبول کرنے میں کچھ مزاحمت موجود ہے۔

حکومت کے اقدامات کے بارے میں صدرمملکت نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت تقریباً 20 لاکھ معذور افراد کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں جس کے ذریعے ہر رجسٹرڈ معذور کو 2000 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے لازم کیا گیا ہے کہ وہ عمارتوں تک معذور افراد کی آسانی سے رسائی کے لیے ریمپ بنائیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسی ٹیکنالوجیز اور جدید ٹولز متعارف ہوچکے ہیں جو ایسے لوگوں کو قومی دھارے میں لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

۔صدر مملکت نے معذور افراد کو ہنر مند بنانے پر بھی زور دیا تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشرے کا کوئی شعبہ محروم نہیں رہنا چاہیے اور یہی پاکستان کی کامیابی ہوگی۔ تقریب میں خاتون اول سمینہ عارف علوی، کراچی میں ترکی کے قونصل جنرل Tolga Ucak اور دیگر شریک تھے۔

یہ خبر پڑھیئے

اقوام متحدہ میں چین کے مؤثر کردار کی دنیا معترف ہے۔ سابق سفیر پاکستان مسعود خالد

چین میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons