کراچی: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پروٹون کے پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

کراچی: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پروٹون کے پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں نے معیشت کو صحیح سمت میں گامزن کردیا ہے اور پاکستان خطے میں معاشی مرکز کے طورپر ابھرا ہے، آٹو موبائل کے شعبہ میں مقامی طور پر یونٹس کی تیاری خوش آئند ہے۔

صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو کراچی میں پروٹون سی کے ڈی پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ملک میں گاڑیوں کے مقامی یونٹس کا خیرمقدم کیا اور نوجوانوں کو منڈی کے تقاضوں کے مطابق ہنر سکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو ہنر مند بنانا ہے۔

صدر نے کہا کہ تجارتی سرگرمیاں بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور امن کی بدولت پاکستان ایک معاشی مرکز بن رہا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے سرمایہ کار راغب ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دبئی ایکسپو میں پاکستان پویلین منفرد نظر آرہا ہے۔ صدر مملکت نے دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ ماضی میں سازشوں کے ذریعے ملک کو بدنام کیا گیا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عالمی تعلقات میں اصولوں کو سب سے زیادہ اولیت دی جاتی ہے، اصولوں کو بنیاد بنانے سے اللہ کی رضا بھی شامل ہوگی، کورونا میں موثر حکمت عملی کے ذریعے کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دنیا میں اس وقت تجارتی مفادات کو اولین ترجیح دی جارہی ہے اور انسانی اقدار کو پس پشت ڈالا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں بھارت کے ایک بڑے تجارتی پارٹنر ہونے کی وجہ سے اس کے کشمیر میں ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر پردہ ڈالا جارہا ہے اور اسے چھوٹ دی جاتی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دنیا میں تجارت بڑھتی ہے تو امن بڑھتا ہے، تجارت کے بڑھنے سے امن فروغ پاتا ہے، گوادر کی بندرگاہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو افغانستان کے راستے ایک کم فاصلے کا راستہ فراہم کرے گی،

تجارت کا اتنا بڑا راستہ کھل رہا ہے۔ صدر مملکت نے افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا افغانستان میں یکجہتی والی حکومت چاہتی ہے لیکن اس وقت افغانستان کو تعمیر نو اور سپلائز کے ساتھ ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ وہاں استحکام ہو، افغانستان کے ساتھ دنیا کی تجارت بڑھے گی تو امن کا امکان بڑھ جائے گا، مسلمان ممالک کے درمیان تعاون ہمیں مستحکم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائشیا کی طرح دیانت داری کی بنیاد پر برینڈنگ ہونی چاہئے، لوگوں کو یہ پتہ ہو کہ پروٹان ساگا میں جو وعدہ کیا وہ پورا کریں گے، اسلام اصولوں اور اقدار کی بات کرتا ہے، دنیا کو اس وقت بین الاقوامی تعلقات میں بھی اصولوں کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے کورونا کے دوران بہترین پالیسی وضع کی اور پڑوسی ملک کے برعکس بڑے پیمانے پر اموات کو روکا جسے دنیا نے سراہا، عمران خان دنیا کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈائون نہیں کریں گے اور اس طرح لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا۔ تقریب سے کراچی میں ملائیشیا کے قونصل جنرل خیرالنظران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان باہمی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات 1957سے قائم ہیں اور دونوں ممالک کئی شعبوں میں باہمی تعاون کررہے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ملائیشیا دنیا کا واحد مسلمان ملک ہے جو 1983سے مقامی طور پر اپنی ٹیکنالوجی سے کاریں تیار کر رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ پروٹون ساگا اس کی ایک علامت ہے ۔ تقریب سے الحاج فاموٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہلال خان آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے آٹو موبائل کے شعبے میں حکومت کی اعلان کردہ پالیسی کی تعریف کی ۔

یہ خبر پڑھیئے

اقوام متحدہ میں چین کے مؤثر کردار کی دنیا معترف ہے۔ سابق سفیر پاکستان مسعود خالد

چین میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons