چین کی غیر ملکی تجارت کا مجموعی رجحان حوصلہ افزا رہا ہے، سی آر آئی کا تبصرہ

چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کی جانب سے 13 تاریخ کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی مالی تجارت کی درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت 28.33 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22.7 فیصد اضافہ ہے۔

یہ مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے کہ چین کی غیر ملکی تجارت نسبتاً لچکدار ہے، اور مجموعی طور پر بہتر سے بہتر ہونے کا رجحان تبدیل نہیں ہوا ہے۔ چین کی غیر ملکی تجارت نے پہلی تین سہ ماہیوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن ایک ہی وقت میں، یہ بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ عالمی وباء میں موجودہ اتار چڑھاؤ اور عالمی معیشت کی مشکل بحالی کی وجہ سے، چین کی غیر ملکی تجارت کی ترقی کو اب بھی زیادہ غیر مستحکم اور غیر یقینی عوامل کا سامنا ہے۔

چین کی کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال کی چوتھی سہ ماہی میں درآمدات اور برآمدات کی شرح نمو گر سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود سال بھر میں تیزی سے ترقی حاصل کرنے کی توقع ہے۔

یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ چین کے طویل المدتی معاشی نمو کے بنیادی رجحان تبدیل نہیں ہوئے ہیں، اس لئے چین کی غیر ملکی تجارت میں مستحکم اور اعلیٰ معیار کی ترقی جاری رہے گی، جو چینی اور عالمی معیشت کی بحالی میں مستحکم قوت محرکہ فراہم کرتی رہے گی۔

یہ خبر پڑھیئے

چین عالمی امن کا معمار رہے گا، سی آر آئی کا تبصرہ

چین کےصدر مملکت شی جن پھنگ نے پچیس اکتوبرکو اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons