چینی سائنسدانوں نے ماؤنٹ ایورسٹ کی ریکارڈ بلندی سے بیج جمع کر لئے

چینی سائنسدانوں نے ماؤنٹ ایورسٹ کی ریکارڈ بلندی سے بیج جمع کر لئے

چینی سائنسدانوں نے ماؤنٹ ایورسٹ پر، جسے تبتی زبان میں چھومو لنگما بھی کہا جاتا ہے، تقریباً 6 ہزار 2 سو میڑ کی انتہائی بلندی پر کامیابی سے مختلف پودوں کے بیج جمع کئے ہیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے کھون منگ انسٹیٹیوٹ آف باٹنی اور گرمپلازم بینک آف وائلڈ سپیسسز کی سربراہی میں سرانجام دی گئی اس مہم کے دوران مختلف پودوں کے بیج جمع کئے گئے، جن میں سولمز۔لیوباکیا ہیمالاینسسز اور ساؤ سریا نافالوڈسخاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

جی بی او ڈبلیو ایس کے ڈاکٹر سائیچی اے نے کہا ہے کہ اس مہم کا بنیادی مقصد زیادہ بلندی پر پائے جانیوالے پودوں کی نشوونماء اور بالیدگی سے متعلق آگاہی حاصل کرنا تھا، جو ایک نئی پیشرفت اور بڑی کامیابی ہے اور اس کی بدولت ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ فراہم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو جانچنے کا موقع میسر آئے گا۔

یہ مہم 11 سے 15 اکتوبر تک چین کے جنوب مغربی شہر کھون منگ میں منعقد ہونیوالے ماحولیاتی تنوع سے تعلق رکھنے والے فریقین کے 15ویں اجلاس سے قبل سرانجام دی گئی ہے۔

بیج جمع کرنے والی تحقیقاتی ٹیم اگست اور ستمبر کے دوران 2 بار ماؤنٹ ایورسٹ پر جاچکی ہے، جہاں ٹیم کے ارکان نے 6 ہزار 605 میٹر بلند مقام پر نباتاتی جائزے اور بیج تلاش کرنے کی اس مہم کیلئے 20 روز تک قیام کیا۔

بیجوں کی گنتی کے بعد انہیں زیادہ عرصہ تک محفوظ رکھنے کیلئے صاف کرنے کے بعد خشک کیا جائے گا۔ کے آئی بی کے مطابق جی بی او ڈبلیو ایس میں اب تک مختلف پودوں کے بیجوں کی 10 ہزار 601 اقسام جمع کی جاچکی ہیں، جو چین میں پھولدار پودوں کی مجموعی اقسام کا 36 فیصد ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

چین عالمی امن کا معمار رہے گا، سی آر آئی کا تبصرہ

چین کےصدر مملکت شی جن پھنگ نے پچیس اکتوبرکو اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons