عراقی پارلیمانی انتخابات: مقتدیٰ الصدر کی برتری

عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مقتدیٰ الصدر کی جماعت کو بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق سابق وزیراعظم نوری المالکی کی جماعت دوسرے نمبر پرہے۔

عراق کے مختلف صوبوں سمیت دارالحکومت بغداد سے آنے والے ابتدائی نتائج میں مقتدیٰ الصدر کی جماعت نے 70 سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔ انتخابی نتائج کی تصدیق ہونے کی صورت میں وہ اگلی حکومت سازی کے عمل میں کافی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ مقتدیٰ الصدرکے دفتر کے ترجمان نے 73 نشستوں کا دعوی کیا ہے، جبکہ مقامی خبر رساں اداروں نے بھی یہی اعداد و شمار شائع کیے ہیں۔

العریبیہ کے مطابق پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 میں عراق میں بے روزگاری، مہنگائی اور حکمرانوں کی مالی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی تحریک سے ابھرنے والے اصلاحات کے حامی امیدواروں نے 329 رکنی پارلیمنٹ میں کئی نشستیں حاصل کرلی ہیں۔

مقتدیٰ الصدر کی جماعت نے 2018 انتخابات میں 54 نشستیں جیتی تھیں اور حکومتوں کی تشکیل میں ان کا کردار اہم رہا تھا۔ یہ جماعت عراق میں تمام غیرملکی مداخلت کی مخالف کرتی ہے، چاہے وہ امریکا کی طرف سے ہو، جس کے خلاف انھوں نے 2003 کے بعد بغاوت برپا کی تھی۔

یہ خبر پڑھیئے

اصلاحات، کھلے پن اور اقتصادی تعمیر میں بڑی پیش رفت

چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے پچیس اکتوبر کو اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons