شام میں سیاسی استحکام، خان الحریر کا قدیم علاقہ بحال کردیا گیا

شام میں سیاسی استحکام، خان الحریر کا قدیم علاقہ بحال کردیا گیا

شام کے گنجان آباد شہر حلب میں گزشتہ 18 ماہ سے جاری بحالی کی سرگرمیوں کے دوران قدیم ترین مقام خان الحریر میں 60 دوکانیں دوبارہ تعمیر کی جاچکی ہیں، جہاں خریداروں کی آمد و رفت کا آغاز ہوچکا ہے۔

شام میں جنگ کے آغاز سے قبل خان الحریر مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکسٹائل خصوصاً ریشم اور دیگراقسام کے کپڑوں کی فروخت کا اہم مرکز تھا اور حلب کو اس حوالے سے معروف مقام حاصل تھا۔

خان الحریر کے علاقے سوک المجیدیہ میں ایک دوکان کے مالک جمال ستوت نے سی جی ٹی این کو بتایا کہ وہ بازار کی رونقیں بحال ہونے پر خوش ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ماضی کی نسبت آج حالات نسبتاً بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کا قدرتی حسن بحال ہوچکا ہے اور کاروبار کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ بجلی کی فراہمی اور دیگر خدمات بھی بہتر ہیں۔ جمال ستوت نے بتایا کہ بازار میں پتھروں سے بنی دیواروں کو بہتر بنا دیا گیا ہے اور راستوں کو بھی پتھر کی ٹائلوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

محمد حمیمی خان، جو الحریر میں کپڑے کے تاجر ہیں، پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں تاجر آپس میں ملتے تھے اور اکثر خوش گپیوں میں مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے بازار سے متعلق ماضی کی یادداشتوں کے بارے میں کہا کہ صبح کی کافی کیلئے ہم پڑوسی اکھٹے بیٹھتے اور روز مرہ کے امور، شکایات اور تحفظات پر گفتگو کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ “ہمارا سادہ طرز زندگی خوشگوار تھا”۔ حمیمی اور دیگر تاجر پرامید ہیں کہ  تباہی کے باعث ہونیوالے نقصانات پر قابو پا لیا جائے گا۔ حمیمی نے مزید کہا کہ بازار اگرچہ دوکانداروں کیلئے دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں، تاہم مزید کاوشوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جلد از جلد مصنوعات کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، تاکہ اشیائے ضروریہ تیار کر کے بازار میں فروخت کی جاسکیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عمومی نوعیت کے مختلف اقدامات گاہکوں کو متاثر کریں گے۔

خان الحریر کے راستوں پر چلتے ہوئے بند دوکانیں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ شاید ان کے مالک بازار چھوڑ کر جاچکے ہیں، جیسا کہ ٹیلی فون ہوائی اور الجابریہ، جو حلب میں کپڑے کے مخصوص بازار ہیں۔

لیکن کچھ افراد ملک چھوڑ کر بھی جاچکے ہیں۔ سال 2012ء سے قبل جب باغیوں نے حلب اور شام کے دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا تھا، یہ شام کا اہم اقتصادی مرکز تھا جہاں کپڑے سمیت دیگر بہت سی صنعتیں مناسب قیمت پر بہترین معیار کی مصنوعات تیار کر رہی تھیں۔

خان الحریر شہر کی اہم تجارتی گزرگاہ پر عظیم امّوی مسجد کے قریب واقع ہے اور اس کا رقبہ 2 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ حلب کی معیشت سنہری دنوں کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ شہر میں آج بھی جنگ کے اثرات واضح نظر آ رہے ہیں۔

سال 2016ء کے اواخر میں شامی افواج نے باغیوں کے زیر اثر علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا تھا، لیکن اشیاء ضروریہ کی قلت کی وجہ سے ملک تاحال مشکلات سے دو چار ہے۔ خان الحریر کیازسرنو بحالی حلب گورنریٹ اور میونسپل سٹی کونسل کیزیر نگرانی آغا خان فاؤنڈیشن اور سیریا ٹرسٹ فار ڈیویلپمنٹ کی جانب سے ممکن بنائی گئی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

ورلڈ اکنامک فورم سے چینی صدر کا خطاب، امید کا ایک اور پیغام

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons