جنگ کے بھوکے امریکہ" کو جنگ کے "ماخذ کی کھوج" کے عمل کو قبول کرنا چاہیے، سی آر آئی کا تبصرہ

جنگ کے بھوکے امریکہ” کو جنگ کے “ماخذ کی کھوج” کے عمل کو قبول کرنا چاہیے، سی آر آئی کا تبصرہ

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن تیرہ سے چودہ ستمبر  تک افغانستان سے افواج کے انخلا کے معاملے پر امریکی کانگریس کی دو روزہ سماعت میں شریک ہیں۔

اس سماعت میں امریکی جنگ کےماخذ ، امریکہ کی بالادستی اور  “جمہوریت کی منتقلی” کے امریکی منصوبے کی ناکامی کی وجوہات کو بیان کیا جائے گا۔ بلا شبہ ، امریکہ  دنیا میں سب سے بڑا “جنگ پسند” ملک ہے۔امریکہ کی تاریخ صرف 240 سال پرانی ہے، تاہم اس میں بھی امریکہ نے 200 سے زائد جنگوں کا آغاز کیا یا ان میں شامل ہوا۔

امریکی بالادستی کی حفاظت کے لیے امریکہ کے بعض سیاستدان عسکری طریقے سے دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کرنا ، امریکی نقطہ نظر کو پھیلانا اور دوسرے ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنا پسند کرتے ہیں۔اسی وجہ سے عسکری قوت پر اعتماد امریکہ کی بالادستی کی نمایاں خصوصیت بن گیا ہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں امریکہ “انسداد دہشت گردی” کے بہانے کبھی دنیا کے ایک حصے میں تو کبھی دوسرے حصے میں جنگ لڑتا آ رہا  ہے اور امریکہ کے فوجی کاروباری ادارے اس صورتِ حال سے استفادہ کرتے ہوئے دولت جمع کرتے ہیں۔

امریکہ اپنے نقطہ نظر کے مطابق دوسرے ممالک کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اس کی” امریکی جمہوری ماڈل” کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کی سب کوششیں ناکام ہوئیں اور ان ممالک کے عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ دنیا کا “جنگ کے بھوکے”امریکہ سے مطالبہ  ہے کہ “جنگ کے ماخذ “کی کھوج کی جائے۔

یہ خبر پڑھیئے

سائبر تمدن کے لیے چین کا کلیدی کردار: سید پارس علی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons