کرونا کی روک تھام میں چین کا تعمیری کردار اور امریکہ کی الزام تراشی

کرونا کی روک تھام میں چین کا تعمیری کردار اور امریکہ کی الزام تراشی

رواں سال جولائی میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے بعد وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر امریکی اور مغربی میڈیا نے ووہان لیبارٹری کے خلاف لفظی حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا، جس میں ہر قسم کے سیاسی حربے اپنائے گئے ہیں۔

اس وقت متغیر وائرس کی وجہ سے عالمی وبا میں اضافہ ہوا ہے ، اور دنیا بھر میں متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 200 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگرچہ امریکہ ایک طاقتور ملک ہے اور اس کی ٹیکنالوجی بھی بہت ترقی یافتہ ہے، تاہم اگر سیاستدان سائنس کو یرغمال بنا لیں گے اور عقلیت کو ختم کر دیں گے، تو صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر برائے چین پاک تعلقات ڈاکٹر طلعت شبیر کا کہنا ہے کہ چین کے شہر ووہان سے کرونا وبا پھوٹنے کے بعد چین نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کو اس وائرس سنگینی سے آگاہ کیا ۔

ابھی حال ہی میں چین نے اعلان کیا کہ وہ رواں سال دنیا کو ویکسین کی 2 ارب خوراکیں فراہم کرنے کی کوشش کرے گا ، اور ویکسین تعاون کے عالمی منصوبے “کوویکس” کے لیے 100 ملین امریکی ڈالر عطیہ کرے گا۔ یہ عالمی وبا کے خلاف تعاون میں چین کی نئی شراکت ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

لاستھ ملنگا نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ لے لی

لاستھ ملنگا نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ لے لی

سری لنکن کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر لاستھ ملنگا نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons