پنجشیر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، طالبان کا دعویٰ: مزاحمتی اتحاد کی تردید

طالبان نے ایک بار  پھر افغانستان کے ناقابل تسخیر  سمجھے جانے والے صوبے پنجشیر کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ  قومی مزاحمتی محاذ افغانستان (این آر اے ایف) نے بھی ایک بار پھر اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پنجشیر میں جھڑپوں کے دوران کئی باغی جنگجو ہلاک اور کئی فرار ہو گئے ہیں جس کے بعد پنجشیر کے عوام باغی کمانڈروں کی شر سے آزاد ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجشیر پر کنٹرول کے بعد افغانستان جنگ سے پاک ہو گیا ہے اور افغان عوام اب امن کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پنجشیر کے عوام ہمارے بھائی ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔

برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں طالبان کمانڈرز کو وادی پنجشیر کے گورنر ہاؤس میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے لیکن مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود کا اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب احمد مسعود کے وادی پنجشیر میں ہونے کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اطلاعات ہیں کہ احمد مسعود طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

گزشتہ روز پنجشیر میں قومی مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے طالبان سے جنگ روکنے کی مشروط پیشکش کی تھی۔

یہ خبر پڑھیئے

بھارت کے تمام جھوٹ ایک کے بعد ایک کُھلتے جا رہے ہیں، سینئر تجزیہ کار مخدوم بابر

چینی صدر کے خطاب میں عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی واضح سمت نظر آتی ہے، سینئیر تجزیہ کار مخدوم بابر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons