امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام رہا: دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ

امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام رہا: دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ

تقریباً 20 سال قبل 2001ء میں امریکہ میں رونماء ہونیوالے 9/11 کے واقعہ کے بعد اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک مشترکہ قرارداد پر دستخط کئے جس کے تحت امریکی فوج کو 9/11 کے واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔اس اقدام کے تحت امریکی افواج نے برطانیہ کی مدد سے 7 اکتوبر 2001ء کو افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کا آغاز کیا اور بعد ازاں اس مہم میں کنیڈا، آسٹریلیا، جرمنی اور فرانس کی افواج نے بھی امریکہ کی بھرپور مدد کی۔

سال 2011ء میں امریکی صدر باراک اوباما نے 2014ء تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا فیصلہ کیا، لیکن امریکی دفاعی ادارے افغان افواج پر اس حوالے سے اعتماد نہیں کرسکے کہ وہ اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کی حفاظت کرسکیں گے۔

افغانستان کے طول و عرض میں 20 سال تک جاری رہنے والی اس جنگ میں امریکہ کے کردار کے حوالے سے معروف دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے ایف ایم 98 دوستی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام رہا۔

بریگیڈیئر (ر)  محمود شاہ نے اظہار خیال کرتے ہو ئے کہا کہ  امریکہ کے افغانستان میں اہداف یہ تھے کہ وہ ناصرف   روس اور چین پر نظر رکھے بلکہ  خاص طور پر پاکستان   جو کہ   نیو کلیر طاقت ہے اس  پر نظر رکھی جا سکے،      لہذا   جتنی دیرامریکہ وہاں رہا  اس نے نظر رکھی۔ لیکن  پھر امریکہ  نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ  چین تو اسی طرح  تیزی سے  ترقی کر رہا ہے اور سی پیک کا منصوبہ بھی رواں دواں  ہےتو ہماری  افغانستان میں موجودگی کا ہمیں کوئی   فائدہ نہیں ۔

دفاعی تجزیہ کار محمود شاہ کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ امریکہ کا  ہر قسم کا جانی و مالی نقصان  ہورہا  تھا  توا ن  کے حکام نے فیصلہ کیا کہ وہ افغانستان  سے چلیں جائیں۔

اپنے  خیال کا اظہار کرتے ہوئے بریگیڈیئر (ر)  محمود شاہ نے کہا کہ  ابھی شاید امریکہ کا یہی ہدف ہو  کہ  وہ اس خطے کے باہر سے  چین  کے ایک پٹی ایک شاہراہ   اقدام اور سی پیک  منصوبے کو نقصان پہنچائے    ۔لیکن امریکہ ایسا نہیں  کرسکے گا   کیونکہ بنیادی  طور پر چین کا رجحان   تجارت کی طرف ہے اور  امریکہ شاید اسے فوجی طاقت  کے ذریعے  روکنا چاہتا ہے   جو کہ ممکن   نظر نہیں آتا۔

ایک اندازے کے مطابق سال 2001ء سے اپریل 2021ء تک افغانستان کی جنگ میں 2 ہزار 448 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ اس دوران افغان فوج اور پولیس کے 66 ہزار افراد بھی اس جنگ کی نظر ہوگئے۔ یہ اعداد و شمار نیٹو ممالک کے 1 ہزار 144 ہلاک شدہ فوجیوں کے علاوہ ہیں۔ اس 20 سالہ جنگ کے دوران افغانستان میں 47 ہزار 245 شہریوں کے علاوہ طالبان اور دیگر متحارب گروہوں کے 51 ہزار 191 افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ نہ صرف یہ بلکہ افغانستان میں جاری مختلف منصوبوں پر کام کرنیوالے 3 ہزار 846 کنٹریکٹر اور 444 امدادی کارکن بھی اس لاحاصل جنگ میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔

یہ خبر پڑھیئے

بھارت کے تمام جھوٹ ایک کے بعد ایک کُھلتے جا رہے ہیں، سینئر تجزیہ کار مخدوم بابر

افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کے لئے فوری اقدام ضروری ہیں، تجزیہ کار مخدوم بابر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons