پاکستان میں رواں سال کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، وفاقی وزیر سید فخر امام

پاکستان میں رواں سال کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، وفاقی وزیر سید فخر امام

وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کپاس کی انٹروینشن قیمت 5 ہزار روپے فی 40 کلو گرام مقرر کئے جانے کی کابینہ نے منظوری دی ہے، ملک میں کپاس کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کے لئے وزارت کاٹن پرائس ریویو کمیٹی تشکیل دے گی، قیمتوں میں کمی ہونے پر یہ کمیٹی ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان کو احکامات دے سکتی ہے کہ وہ خریداری شروع کرے۔

بدھ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید فخر امام نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی آئی ہے ، ہم اس کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ گزشتہ سال کی نسبت پاکستان میں رواں سال کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ کپاس کی بحالی کے لئے یہ ہمارا پہلا قدم ہے ، ہماری کوشش ہو گی کہ تسلسل کے ساتھ اس کو لیکر آگے چلیں ۔خریف کے کاشتکاروں کے پاس دھان ، گنا اور مکئی کے آپشن موجود ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی 40 من مقرر کی گئی ہے ۔ اس کی کابینہ نے منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کپاس کے جائزے کے لئے ریویوکمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس کا جلاس ہر دو ہفتے کے بعد ہوا کرے گا ۔ کاشتکار کو اعتماد ہو گا کہ حکومت انہیں پروموٹ کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔امدادی قیمت سے جو کاشتکار کپاس کی فصل کاشت کرنا چاہئے گا وہ ذہنی طور پر مطمئن ہو گا ۔

بی ٹی کاٹن کے حوالے سے پاکستان میں کچھ کاشتکاروں نے پیش رفت دکھائی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کاٹن کی بحالی کے لئے حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ کاٹن کی چنائی اور ہارویسٹنگ کے حوالے سے خواتین کو تربیت دی جاتی تھی ، دنیا میں کاٹن کے شعبے میں جو جدید ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے ہم چاہتے ہیں تجرباتی بنیادوں پر اس کو استعمال کریں ۔ ہماری کوشش ہے کہ کرم کش ادویات معیاری ہوں ، جیننگ ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھارہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو نئی ٹیکنالوجی چل رہی ہے اس کی طرف جائیں ۔

انہوں نے کہاکہ گندم، چاول اور گنے کی فصلوں میں ہماری ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے ، حکومت کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے کاٹن پیکج سے توقع ہے کہ ایک لاکھ گانٹھیں زیادہ پیداوار ہو گی ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت کپاس کی قیمت دنیا میں بلند ترین سطح پر ہے ۔انہوں نے کہاکہ کاٹن کے بیج کی کوالٹی کا بھی کافی عرصہ سے مسئلہ رہا ہے ، ہماری کوشش ہے کہ معیاری بیج متعارف کروائے جائیں ، کپاس کی فصل سے بہت سے لوگوں کے روزگار وابستہ ہیں ، گزشتہ سال 13سو میں سے صرف 6سو کاٹن فیکٹریوں نے کام کیا ، پنجاب کو گزشتہ سال 8لاکھ بیلز قلت کا سامنا رہا ، سندھ میں بھی توقع سے کم کپاس کاشت ہوئی ، ملک میں کپاس کی کاشت کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہم سبزیوں کی کاشت کا اسی فیصد بیج درآمد کرتے ہیں ، مکئی کی کاشت کے لئے زیادہ بیج باہر سے منگوایا جاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار ہمیشہ نفع دیکھ کر فصل کا فیصلہ کرتا ہے ، کسی بھی فصل کے مقابلے میں کپاس کا منافع زیادہ ہے ۔

یہ خبر پڑھیئے

سائبر تمدن کے لیے چین کا کلیدی کردار: سید پارس علی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons