گلوکار اخلاق احمد کی برسی

سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جانِ من تجھ کو میں دے سکوں گا، جیسے متعدد یادگار گیتوں کو گانے والے دلکش آواز کے مالک گلوکار اخلاق احمد آٹھ مئی 1946 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز کراچی سے کیا جہاں وہ ابتدائی دور میں گلوکار مسعود رانا اور اداکار ندیم کے ساتھ سٹیج پروگرامز میں گلوکاری کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ اخلاق احمد کی لگن سچی تھی، انھوں نے 1972 میں فلم ‘پاکیزہ’ سے پلے بیک سنگنگ کا آغاز کیا اور 1973 میں فلم ‘بادل اور بجلی’ کے گیت ‘بہکے قدم انجانی راہیں’ سے ان کی مقبولیت کا آغاز ہوا۔

تاہم 1974 میں فلم ‘چاہت’ کیلئے ان کے گیت ‘ساون آئے ساون جائے تجھ کو پکاریں گیت ہمارے’ نے انہیں انتہائی مقبول کردیا اوراس کے بعد انھوں نے پیچھے موڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کے مقبول گیتوں میں فلم ‘نہیں ابھی نہیں’ کا گانا ‘سماں وہ خواب کا سماں، فلم ‘مہربانی’ کا گانا کبھی خواہشوں نے لوٹا، کبھی زندگی نے مارا، فلم ‘آئینہ’ کا گانا حسین وادیوں سے یہ پوچھو سمیت سینکڑوں گیت بہت مشہور ہوئے۔

اپنے کریئر کے دوران انھوں نے آٹھ دفعہ بہترین گلوکار کا نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ اخلاق احمد اپنی زندگی کے آخری دنوں میں خون کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوگئے اور ان کا آخری گیت فلم ‘گھونگھٹ’ کا یہ دل دیوانہ ہے پیار کا، تھا۔ چار اگست 1999 میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو کر مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ اخلاق احمد نے اپنے پورے کریئر میں محض باسٹھ فلموں میں صرف نوے گیت گائے اور ان کا نام چوٹی کے پلے بیک گلوکاروں میں نمایاں ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

سائبر تمدن کے لیے چین کا کلیدی کردار: سید پارس علی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons