نظامی امتیاز کا شکار امریکی مسلمان

نظامی امتیاز کا شکار امریکی مسلمان

نائن الیون واقعہ امریکی مسلمانوں کی قسمت کا ایک اہم موڑ کہا جاسکتا ہے۔ تب سے، کچھ امریکی سیاستدان، میڈیا اور رائے عامہ اس گروہ کو ” ملک کا دشمن” قرار دیتے ہیں، اور “قومی سلامتی” اور “داخلی دہشت گردی” جیسے معاملات سے وابستہ کرتے ہیں۔ یوں امریکی مسلمان  نفرت انگیز جرائم، تفریق اور نظامی امتیازی سلوک کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس وقت امریکی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے نظامی امتیازی سلوک کے چار پہلو سب پر عیاں ہیں۔ سب سے پہلے، قانون سازی کی نا انصافی سے مسلمانوں سے متعلق قوانین کی غیر منصفانہ تشریح اور قانون نافذ کرنے کے غلط طریقہ کار سامنے آئے ہیں۔

دوسرا، میڈیا کے تعصب نے امریکی معاشرے میں مسلمانوں میں علیحدگی اور بیگانگی کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔

تیسرا، رائے عامہ کے ماحول میں برداشت کی فضا کم ہو گئی ہے، اور انتہا پسند تنظیموں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا ہے۔

چوتھا، مسلمان مہاجرین کی آبادکاری میں رکاوٹ انسانی حقوق کے سلسلے میں امریکی دوہرے معیار کو اجاگر کرتی ہے۔

اسلامو فوبیا کی جڑ نسل پرستی ہے جو امریکی قانون، سیاست، اور شہری زندگی سے گہری  وابستگی رکھتی ہے۔ معاشی زوال پذیری، اور کووڈ-19 کی وبا وغیرہ کے نتیجے میں سامنے آنے والی” بلیک لائف میٹرز”نامی تحریک سے لے کر ایشین مخالف رجحان تک، یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلاموفوبیا سمیت نظامی نسل پرستی، مستقل، اور تباہ کن ہے۔

اگر امریکہ اس کی اصل وجوہات پر غور و خوض کرنے اور ان کے خاتمے کا ارادہ نہیں کرتا ہے تو نہ صرف اقلیتیں اس کا شکار ہوں گے، بلکہ سفید لوگ بھی مصیبتوں کا شکار ہوں گے۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کا عالمی برداری سے بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم استحصال پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons