پاکستان میں ‘ٹک ٹاک’ پر ایک بار پھر پابندی عائد

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے معروف شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ‘ٹک ٹاک’ کو ایک بار پھر بلاک کردیا۔

پی ٹی اے سے جاری بیان کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں اتھارٹی نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ تک رسائی کو بلاک کردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی پلیٹ فارم پر نامناسب مواد کی مستقل موجودگی اور پلیٹ فارم کے ایسے مواد کو روکنے میں ناکامی کی وجہ سے کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال 28 جون کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی جس کے خلاف پی ٹی اے نے متفرق درخواست دائر کی تھی۔ پی ٹی اے نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ کی درخواست پر پی ٹی اے نے فیصلہ کرنا ہے، فیصلے کے بعد درخواست گزار سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سنا جائے فیصلے کے وقت ہمارا موقف نہیں سنا گیا تھا۔

بعد ازاں ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے ٹک ٹاک پر عائد کی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ قبل ازیں رواں سال مارچ میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی غیر اخلاقی مواد کی موجودگی کے باعث ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات کے بعد فوری طور پر ٹک ٹاک کو بند کردیا گیا تھا اور شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن کچھ دن تک بند رہی تھی۔

غیر اخلاقی مواد کی موجودگی کی وجہ سے ہی اکتوبر 2020 میں پی ٹی اے نے بھی ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کردیا تھا، اس سے قبل پی ٹی اے نے ایپلی کیشن انتظامیہ کو فحش مواد ہٹانے کے لیے نوٹسز جاری کیے تھے۔ بعد ازاں ٹک ٹاک انتظامیہ نے لاکھوں نامناسب مواد پر مبنی ویڈیوز ہٹانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کی سروس بحال کی تھی۔

مارچ 2021 میں بھی پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک کی سروس 10 دن تک معطل رہی تھی، بعد ازاں ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے فحش ویڈیوز ہٹائے جانے کے دعوے اور یقین دہانی پر اپریل میں اس کی سروس بحال کردی گئی تھی۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان مخالف پروپیگنڈہ سے بھارت اپنی ہی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے: سینیئر تجزیہ کار مخدوم بابر

چین سے تعلقات میں پسند نا پسند سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہو گا، سینیئر تجزیہ کار مخدوم بابر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons