کورونا کے لیبارٹری سے اخراج کے نظریات بے بنیاد ہیں، ماہرین

کورونا کے لیبارٹری سے اخراج کے نظریات بے بنیاد ہیں، ماہرین

امریکی جریدے نیو ریپبلک کے مطابق ، گزشتہ مہینے سے ایک بار پھر ایک شور اٹھا ہے کہ نوول کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اس حوالے سے ایک طوفان برپا کردیا گیا ہے۔ حالانکہ گزشتہ برس موسم بہار میں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے سائنسی بیانیے سے اتفاق کرتے ہوئے یہ رپورٹیں نشر اور شائع کی تھیں کہ سابقہ سارس اور میرس وائرس کی طرح کووڈ-19 وائرس بھی قدرتی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

وائرس کے لیبارٹری میں تیاری کے حالیہ بیانیے نے چند جھوٹی خبروں اور ان خبروں کے تناظر میں صدر بائیڈن کی جانب سے وائرس کے ماخذ کی تلاش کی از سر نو تحقیقات کے بعد سر اٹھایا ہے۔

وائرس کے انسانوں کی جانب سے تیار کئے جانے کے حوالے سے دو انتہائی کمزور دلائل پیش کئے جاتے ہیں پہلا یہ کہ نوول کورونا وائرس جانوروں میں ہی پیدا ہوتا ہے تاہم ووہان وائرلوجی لیب میں ایک چمگادڑ پر تحقیق کے دوران یہ وائرس حادثاتی طور پر اس لیب سے انسانوں میں داخل ہوگیا۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ لیبارٹری میں نوول کورونا وائرس پر تحقیق کے دوران وائرس کی جینیاتی ساخت میں کچھ  تبدیلیاں واقع ہو گئی اور انہوں نے اسے اتنا طاقتور بنادیا کہ اس نے انسانوں میں منتقل ہو کر تیزی سے تباہی پھیلا دی۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین پر مشتمل عالمی تحقیقی ٹیم پہلے ہی ووہان وائرلوجی لیب سمیت ووہان کے متعدد مقامات کا دورہ کر کے اپنی تحقیقی رپورٹ شائع کر چکی ہے جس میں اس طرح کے تمام امکانات اور نظریات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے لیبارٹری میں تیاری یا اخراج کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کا عالمی برداری سے بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم استحصال پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons