امریکہ میں مسلمان شدید امتیازی سلوک کا شکار

امریکہ میں مسلمان شدید امتیازی سلوک کا شکار

“نائن الیون “کے واقعے کو  اگرچہ بیس سال  گزر چکے ہیں مگر امریکی مسلمان اب بھی بدنامی، خوف، دھمکیوں اور بے جا نگرانی کا شکار ہیں۔

امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی تعداد ریکارڈ بلند سطح پر ہے۔امریکہ میں 2018 کے  وسط مدتی انتخابات میں ، مسلم مخالف تقاریر میں تیزی سے اضافہ ہوا ، اور سیاست دانوں کے مسلم مخالف سازشی نظریات تیزی سے سیاسی دھارے میں داخل ہوچکے ہیں۔

امریکی کمیٹی برائے اسلامی تعلقات کی جانب سے 2018 میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں مسلم مخالف گروہوں کی تعداد 2016 کے بعد  دوگنا ہو چکی ہے۔

علاوہ ازیں ، فلموں اور ٹی وی پروگراموں  میں نسل پرستی پر مبنی مسلمانوں کی “منفی عکاسی” نے مسلم افراد اور کمیونٹیز کے ساتھ امتیازی سلوک ، دشمنی اور تشدد کو فروغ دیا ہے۔

برطانیہ ، امریکہ اور آسٹریلیا میں 2017 سے لے کر 2019 تک ریلیز ہونے والی سپر ہٹ فلموں میں مسلمانوں کو  زیادہ تر اجنبی، قاتل یا حملہ آور جیسے منفی کرداروں میں پیش کیا گیا ہے۔

امریکہ نےغیر ملکی مسلمانوں کے ساتھ  بھی دہرا معیار اپنایا ہے۔امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے مسلمانوں کی بھلائی کی پرواہے،دوسری جانب اس صدی کے آغاز سے ہی ، امریکہ نے “انسداد دہشت گردی” کی آڑ میں افغانستان ، شام اور عراق میں جنگیں شروع  کیں جن میں  لاکھوں بے گناہ مسلم شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔  کووڈ-۱۹کی وبا کے دوران ، امریکہ نے ایران اور دوسرے ممالک پر پابندیاں جاری رکھیں ، جس سے مقامی لوگوں کا معاش برے طریقے سے متاثر ہوا ہے۔ 

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کا عالمی برداری سے بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم استحصال پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons