تاریخ میں دوسری بار خاتون فلم ساز نے ’کانز‘ کا سب سے بڑا ایوارڈ جیت لیا

دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کا اعزاز رکھنے والا ’کانز فیسٹیول‘ کی 74 سالہ تاریخ میں دوسری بار خاتون فلم ساز نے میلے کا سب سے بڑا ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

’کانز فلم فیسٹیول‘ کے سالانہ 74 ویں میلے کا آغاز رواں ماہ 9 جولائی کو ہوا تھا، مذکورہ میلہ گزشتہ برس کے آغاز میں ہونا تھا مگر کورونا کی وبا کے باعث اسے ڈیڑھ سال کی تاخیر کے بعد منعقد کیا گیا۔ کورونا کی وبا کے باوجود فرانس کے شہر ’کانز‘ میں منعقد کیے گئے فیسٹیول میں یورپ بھر سمیت امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سے بھی شوبز شخصیات نے شرکت کی تھی۔

تقریباً 10 روز تک جاری رہنے والے میلے میں 56 فلموں کو دکھایا گیا جس میں سے 16 فلمیں خواتین فلم سازوں کی تھیں۔ خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق ’کانز‘ کا ’آسکر‘ جیسا اعزاز رکھنے والا سب سے بڑا فلمی ایوارڈ ‘پالمے ڈی اور‘ ایوارڈ تاریخ میں دوسری بار خاتون فلم ساز نے جیتا۔

74 ویں فلم فیسٹیول میں فرانسیسی فلم ساز جولیا ڈکارناؤ کی ہارر باڈی فلم ’ٹائٹانے‘ نے ’پالمے ڈی اور‘ ایوارڈ اپنے نام کیا۔ فیسٹیول میں مجموعی طور پر 22 کیٹیگریز میں 25 ایوارڈز دیے گئے، جس میں سے سب سے بڑا ایوارڈ خاتون فلم ساز نے جیتا جب کہ دیگر چند ایوارڈز بھی خواتین حاصل کرنے میں کامیاب گئیں۔

کانز کا دوسرا اہم ترین ایوارڈ ایرانی فلم ساز اصغر فرہادی کو ان کی فلم ’اے ہیرو‘ پر دیا گیا جب کہ بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ فرانسیسی فلم ساز لیوس کیراکس کو دیا گیا۔ فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ 33 نارویجن اداکارہ رناتے رنسو کو دیا گیا جب کہ بہترین اداکار کا ایوارڈ امریکی اداکار سلیب لونڈری جونز لے اڑے۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کا عالمی برداری سے بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم استحصال پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons