اقوام متحدہ کی جی 7 ممالک سے موسمیاتی فنڈ کے وعدوں کو پورا کرنے کی تاکید

اقوام متحدہ کی جی 7 ممالک سے موسمیاتی فنڈ کے وعدوں کو پورا کرنے کی تاکید

تیرہ تاریخ کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے ایک بار پھر ترقی یافتہ ممالک خصوصاً G7 ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو سالانہ ایک کھرب امریکی ڈالر موسمیاتی فنڈ فراہم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ وعدہ تمام فریقوں کے مابین باہمی اعتماد پیدا کرنے اور پیرس معاہدے کے آب و ہوا کے عملی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندہ جانگ جون نےانتونیو گوتریز کے خیالات سے اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا  کہ ترقی یافتہ ممالک ، خاص طور پر جی 7 ممالک اب تک اپنے ایک کھرب ڈالر کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس نے موسمیاتی اہداف کے حصول میں  بڑی  رکاوٹ پید ا کی  ہے۔

یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔  رواں سال کے “اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن” کی جماعتوں کی 26 ویں کانفرنس میں اس کو پیش اور حل کرنا چاہئے ، بصورت دیگر ہر چیز صرف خالی گفتگو ہوگی۔

2009 میں کوپن ہیگن موسمیاتی کانفرنس میں ترقی یافتہ ممالک نے 2020 تک ترقی پذیر ممالک کو سالانہ کم سے کم ایک کھرب امریکی ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کی جائے۔ تاہم 10 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد ، ترقی یافتہ ممالک اب بھی اس وعدےکو پورا نہیں کرسکیں، اور ترقی پذیر ممالک کو فراہم کی جانے والی رقوم ایک کھرب امریکی ڈالر سے کہیں کم ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کا عالمی برداری سے بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم استحصال پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons