عالمی ادارہ صحت کے معائنہ کار نے کورونا وائرس کے لیبارٹری سے اخراج کے امکان کو مسترد کردیا

عالمی ادارہ صحت کے معائنہ کار نے کورونا وائرس کے لیبارٹری سے اخراج کے امکان کو مسترد کردیا

کورونا وائرس کے ماخذ کی تلاش کے لئے قائم ہونے والے عالمی ماہر گروپ میں شریک آسٹریلوی تفتیش کار نے چین کے تعاون کو مثالی قرار دیا۔

پروفیسر ڈومینگ ڈائر عالمی ماہرین کی اس ٹیم میں شامل تھے جنہوں نے جنوری میں ووہان کا دورہ کیا تھا۔ ٹیم کی جانب سے تیار کردہ تحقیقی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وبا کی وجہ بننے والا نوول کورونا وائرس جانوروں کی کسی ایک قسم سے انسانوں میں قدرتی طور پر منتقل ہوا۔

ٹیم کے مطابق یہ جانور ممکنہ طور پر پینگوئن ہو سکتا ہے۔ وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں متنقلی کے مؤقف کو آسٹریلیا وائرولوجی سوسائٹی کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے جو آسٹریلیا میں اس حوالے سے سب سے بڑا اور مستند ادارہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی ماہرٹیم نے وائرس کے لیبارٹری سے لیک ہونے اور انسانوں میں منتقل ہونے کے نطریے کو خارج از امکان قرار دیا۔تاہم آسٹریلیا اور امریکہ کی انٹیلجنس ایجنسیاں اس حوالے سے مخمصے کا شکار ہیں۔ دی ایج اور ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیاں دو ایک کی اکثریت سے یہ مانتی ہیں کہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں قدرتی طورپر منتقل ہوا  ہے۔ صدر جوبائیڈن نے وائرس کے لیب سے خارج کے نظریے کی ازسر نو تحقیق کے حوالے سے ایک حکم بھی جاری کیا ہے۔ 

پروفیسر ڈائر کے مطابق وائرس کے ماخذ کا پتہ چلانا ایک صبر آزما کام ہے۔ اس سے قبل سارس کے جانوروں میں ماخذ کا پتہ چلانے میں پندرہ برس سے زائد کا عرصہ لگا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ووہان انسٹیٹیویٹ آف وائرلوجی میں وبا سے قبل نوول کورونا وائرس کا کوئی نمونہ موجود تھا۔ لہذا وائرس کے لیب سے لیک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ چین نے تحقیقات کے دوران عالمی ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جو لائق صد تحسین ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

بابوسر ناران روڈ کو چھوٹی گاڑیوں کیلئے کھول دیا گیا

بابوسر ناران روڈ کو چھوٹی گاڑیوں کیلئے کھول دیا گیا

ضلع دیامر کی انتظامیہ نے شاہراہ بابوسر ناران روڈ کو صبح 4 سے شام 6 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons