کورونا وائرس کے ماخذ کے سراغ لگانے کو سیاسی رنگ دینا کسی مسئلے کا حل نہیں

کورونا وائرس کے ماخذ کے سراغ لگانے کو سیاسی رنگ دینا کسی مسئلے کا حل نہیں

کووڈ-۱۹ کے ماخذ کی تلاش میں کچھ امریکی سیاستدان ” اپنی مرضی کے نتائج کے لیے ثبوت کی تلاش ” میں مصروف ہیں یعنی وہ کسی کو” مجرم “بنانے کے لیے شواہد ڈھونڈ رہے ہیں۔

پچھلے سال بعض امریکی سیاستدانوں نے دعوی کیا ہے کہ “بڑی تعداد میں ثبوت “ہیں کہ کورونا وائرس کا ماخذ لیبارٹری میں تھا ۔پوری دنیا کے سائنسی حلقوں کی جانب سے اس دعوے پرکڑی تنقید کی گئی ۔اب ایک مرتبہ پھر بعض امریکی سیاستدان اور ذرائع ابلاغ یہی پرانا کھیل دوبارہ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

دی وال اسٹریٹ جرنل کی نام نہاد رپورٹ میں ایک مرتبہ پھر  کورونا وائرس کو چین کی لیبارٹری سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس رپورٹ میں بے بنیاد حوالوں پر مشتمل غیر مصدقہ معلومات ہیں۔ جرمن یونیورسٹی آف ہمبرگ کے قدرتی تحقیقاتی مرکز کے بائیولوجی پروفیسر میتھیاز گلوبرچ نے کہا کہ متعلقہ بحث “سنی سنائی باتوں ” کی بنیاد پر کی جارہی ہے جس کا سائنسی تحقیقات سے نہ کوئی تعلق ہے نہ ہی کوئی فائدہ نہیں ہے۔  کورونا وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے والی عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ماہر ڈامنیک  ڈواِئر  نے بھی نشاندہی کی کہ کورونا وائرس کے لیبارٹری سے خارج ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور کورونا وائرس کے ماخذ کے سراغ لگانے کو سیاسی رنگ دینا کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا ہے۔ 

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کا عالمی برداری سے بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم استحصال پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 5 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons