مؤثر طریقے سے وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے سائنسی اصولوں کا احترام ضروری ہے

مؤثر طریقے سے وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے سائنسی اصولوں کا احترام ضروری ہے

کووڈ -۱۹ وائرس کے ماخذ کا سراغ  لگانا ایک مشکل اور پیچیدہ سائنسی معاملہ ہے۔

اس مسئلے پر  کچھ امریکی سیاستدان اور میڈیا سیاسی تعصب کے ساتھ سائنسی تحقیق میں مداخلت کرنے ، بغیر تحقیق اور ٹھوس ثبوت کے “لیبارٹری سے وائرس کے اخراج کے نظریے” کو ہوا دینے  اور وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے میں بین الاقوامی تعاون میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں۔ 

وائرس کا سراغ لگانا سائنسی اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے اور اس کے لیے عالمی ادارہِ صحت کی سربراہی میں سائنسدانوں اور طبی ماہرین کو عالمی سطح پر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ وائرس کا سراغ لگانے کے لیے ہر طرح کی سیاسی مداخلت کو روکنا ہو گا ، تمام ممالک کی خود مختاری اور  مساوات کا احترام کرنا ہوگا اور “مجرم یا جرم” کے بارے میں کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کی مخالفت کرنا ہوگی۔

اس تفتیش و تحقیق میں وبا کے شکار تمام ممالک کا احاطہ کرنا چاہیے اور شفافیت اور حقائق  پر عمل کرنا چاہیئے۔ وائرس کا سراغ لگانے کا مقصد وائرس سے متعلق سائنسی معلومات کو  بہتر کرنا ہے تاکہ مستقبل میں بڑی متعدی بیماریوں کا بہتر طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔  

کچھ امریکی ذرائع ابلاغ نے ماہرین کی ٹیم کو  ووہان میں “اصل ڈیٹا حاصل نہ کر سکنے “کی رپورٹ دے دی جسے ڈبلیو ایچ او کے ماہرین اور متعلقہ محققین نے حقائق کو”جان بوجھ کر مسخ کرنے” اور  “سیاق و سباق سے ہٹ کر” کی جانے والی اور “مایوس کن” رپورٹ قرار دیا ہے۔
 

یہ خبر پڑھیئے

بھارتی اقدامات کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں، وزیراعظم کا پیغام

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons