سات کلوگرام یورینیم برآمدگی کا کیس انڈین نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کے سپرد

انڈیا میں دہشت گردی کے واقعات کی تفتیش کرنے والے سب سے اہم ادارے نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این ائی اے) نے ممبئی میں سات کلو گرام یورینیم کی فروخت کے اہم معاملے کی تفتیش اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

اس سے قبل اس واقعے کی تفتیش ممبئی پولیس کا خصوصی یونٹ شاخ اے ٹی ایس کر رہا تھا۔ مہاراشٹر پولیس کی انسداد دہشت گردی شاخ کے سراغ رسانوں نےگذشتہ ہفتے جگر جےایش پانڈیہ اور ابو طاہرافضل چودھری نام کے دو افراد کو ممبئی کے نواح سے گرفتار کیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اُن کے قبضے سے سات کلو ایک سو گرام قدرتی یورینیم برآمد کی تھی جس کی قیمت مارکیٹ میں 21 کروڑ انڈین روپے بتائی گئی ہے۔

گرفتار ملزمان یہ یورینیم فرروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اے این آئی کے ترجمان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تفتیشی ادارے نے وزارت داخلہ کے حکم پر اتوار کو اس معاملے کی ایف آئی آر دوبارہ درج کر کے اس کیس کو باضابطہ طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

اس سے قبل ممبئی پولیس نے اس کیس کی ایف آئی آراے ٹی ایس کے کالا چوکی پولیس سٹیشن میں درج کرائی تھی۔ اے ٹی ایس کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں بتایاگیا تھا کہ پولیس کی خصوصی شاخ نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 14 فروری کو ملزم جگر پانڈیہ کو یورینیم کی کچھ مقدار کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ پانڈیہ اس یورینیم کی فروخت کے لیے گاہک کی تلاش میں تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے بتایا کہ اسے یہ یورینیم ایک سکریپ ڈیلر ابو طاہر افضل حسین چودھری نے دی تھی۔ پولیس نے بدھ کو چودھری کو کرلا سکریپ ایسوسی ایشن کے احاطے سے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے سات کلو سو گرام قدرتی یورینیم برآمد کی۔ اے ٹی ایس کے تفتیشی افسرں کے مطابق اس یورینیم کوتجزیے کے لیے ٹرامبے میں واقع بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر بھیجا گیا تھا۔

اٹامک سینٹر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ مادہ قدرتی یورینیم ہے اور ‘انتہائی تابکار میعار کی ہے جو انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔’ میڈیا نے ممبئی پولیس کی انسداد دہشت گردی یونٹ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل شیو دیپ لانڈے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جو قدرتی یورینیم برآمد کی گئی ہے وہ 90 فیصد سے زیادہ خالص ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ملزمان کو یہ کیسے پتہ تھا کہ یہ یورینیم ہے۔

یورنیم کی کھلی فروخت کا یہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے لیکن اس وقت پورے ملک کی توجہ کورونا کی خوفناک وبا پر مرکوز ہے اس لیے یہ خبر انڈین میڈیا میں دبی رہی اور اس بارے میں ابتدائی خبروں کے بعد مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

پاکستان نے ممبئی میں سات کلوگرام غیر قانونی یورنییم کی برآمدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس معاملے کی مزید تفتیش پر زور دیا ہے۔ پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ پیغام میں پاکستان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’جوہری مادوں کا تحفظ سبھی ملکوں کی اولین ترجیح میں ہونا چاہیے۔ اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی ضرورت ہے۔‘

یورینیم کی برآمدگی کا یہ معاملہ اب این آئی اے کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی تفتیش بنیادی طور پر ان پہلوؤں پر مرکوز ہوگی کہ ملزمان نے اتنی خالص نوعیت کی قدرتی یورینیم کہاں سے اور کس طرح حاصل کی؟ وہ یہ یورینیم کس طرح کے لوگوں کو فروخت کر رہے تھے؟ اور کیا انھوں نے اس سے پہلے بھی یورینیم فروخت کی ہے؟ پولیس کے مطابق اس معاملے میں آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

جی 7 بیانات میں چین پر کڑی تنقید کی گئی ہے جو ناقابلِ قبول ہے، چین

جی 7 بیانات میں چین پر کڑی تنقید کی گئی ہے جو ناقابلِ قبول ہے، چین

15 جون کو چین کی  وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں 13 جون کو جی 7 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons