"جارحانہ رویے" کا لیبل امریکہ کو خود پر لگانا چاہیئے، سی آر آئی کا تبصرہ

“جارحانہ رویے” کا لیبل امریکہ کو خود پر لگانا چاہیئے، سی آر آئی کا تبصرہ

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے دو تاریخ کو امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے وقت چین پر الزام لگایا کہ بیرونی ممالک کے ساتھ چین کا رویہ “جارحانہ” ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ امریکہ کا مقصد چین پر دباؤ ڈالنا یا چین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں ہے بلکہ عالمی اصول و ضوابط کی حفاظت کرنا ہے۔ دراصل امریکہ اپنے بیان میں “امریکی اصول و ضوابط” کی جگہ “عالمی اصول و ضوابط” کا استعمال کررہا ہے، اس طرح امریکہ دوسرے ممالک میں اپنی مداخلت کو “انصاف” کا رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔

عشروں سے دنیا  دیکھ رہی ہے کہ “امریکی اصول و ضوابط” دراصل فوجی دھمکی، سیاسی تنہائی، اقتصادی پابندی اور ٹیکنالوجی ناکہ بندی سمیت مختلف طریقوں سے اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنا ہے۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام سے لے کر عرب ممالک تک، یوریشیا ممالک سے لے کر ایران، کیوبا، وینزویلا اور چین تک، امریکہ ہرجگہ دست درازی کا مرتکب ہورہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ عالمی تنظیم سمیت امریکی اتحاد بھی امریکی بالادست رویے کا شکار ہو رہے ہیں۔ جرمنی سے نورڈ اسٹریم-ٹو قدرتی گیس پائپ کی تعمیر کو ختم کرنے اور ڈینمارک کے اخبار سے چینی الیکٹرانک تنصیبات استعمال نہ کرنے کا مطالبہ امریکہ کی اسی بالا دست رویے کے ثبوت ہیں۔

لوگ  دیکھ  سکتے ہیں کہ “جارحانہ رویے” کا لیبل امریکہ ہی کو سجتا ہے۔”زور زبردستی کی سفارتکاری “میں مشغول امریکی سیاستدان امریکہ کو گمراہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

شوبز شخصیات کی فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

اسرائیلی فوج کی جانب سے یوم القدس کے موقع پر اسرائیلی افراد پر حملے اور …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons