ستائیس تاریخ کو آسٹریلیا کے اخبار “سڈنی مارننگ ہیرالڈ” کی ایک رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیا میں ایک اسکالر کو سنکیانگ میں چین کی جانب سے نام نہاد “نسل کشی” سے متعلق تحقیق کو چیلنج کرنے پر سخت صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، انہیں”گالیاں دی گئیں” اور ” جاسوس” تک کہا گیا۔
انہیں جان سے مارنے کے حوالے سے دھمکی آمیز ای میلز بھی موصول ہوئیں۔ اس اسکالر کا نام جین گوولی ہے اور وہ آسٹریلیا نیشنل یونیورسٹی کے چینی مطالعہ مرکز میں پروفیسر ہیں۔اخبار “سڈنی مارننگ ہیرالڈ” کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے گزشتہ ہفتے نیشنل پریس کلب میں ایک تقریر میں ایک تحقیقی رپورٹ کے حوالے سے بتایا تھا کہ “اس رپورٹ میں کئے جانے والی دعوے میں مبالغہ آرائی ہوسکتی ہے، رپورٹ کے مطابق تقریباً دس لاکھ ویغوروں کو تربیتی مراکز میں بھیجا گیا ہے”۔
Dosti Channel FM 98 Voice of Friendship

